تہران/اسلام آباد: ایران کی حکومت نے باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہو گئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق شہادت کے وقت وہ جنگی صورتحال کی نگرانی کے لیے قائم کردہ خصوصی ‘کنٹرول روم’ میں موجود تھے، جہاں ہونے والے حملے نے نہ صرف رہبرِ اعلیٰ بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق ہفتے کی صبح ہونے والے حملے میں رہبرِ اعلیٰ کے صاحبزادے اور نامزد جانشین آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، ان کی صاحبزادی اور نواسے بھی شہید ہو گئے۔ شہید رہبر کی وصیت میں دو نام جانشینی کے لیے تجویز کیے گئے تھے: پہلا نام مجتبیٰ خامنہ ای کا تھا، تاہم ان کی شہادت کے بعد اب قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی جانشین کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
آئینی طریقہ کار اور اقتدار کی منتقلی
ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت رہبرِ اعلیٰ کی وفات کی صورت میں ملک کا نظم و نسق درج ذیل تین رکنی کونسل کے پاس چلا گیا ہے:
صدرِ مملکت
عدلیہ کے سربراہ
نگہبان شوریٰ کا ایک رکن
یہ عبوری کونسل اس وقت تک ذمہ داریاں نبھائے گی جب تک ’مجلسِ خبرگانِ رہبری‘ (88 فقہا پر مشتمل اسمبلی) دو تہائی اکثریت سے نئے رہبر کا انتخاب نہیں کر لیتی۔ یاد رہے کہ 2024 میں منتخب ہونے والی اس اسمبلی میں علی خامنہ ای کے وفاداروں کی اکثریت ہے، جس کی وجہ سے علی لاریجانی کے انتخاب کے امکانات روشن ہیں۔مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ترجمان محسن دہنوی نے آیت اللہ علی رضا عارفی کو عبوری قیادت کونسل میں مجلس خبرگان رهبری کے فقہی عہدے کے رکن کے طور پر منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔
علی خامنہ ای کے قتل کے بعد صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ کو ممبر کے طور پر ایک عارضی لیڈرشپ کونسل تشکیل دی جائے گی۔
ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق رہبرِ اعلیٰ کی موت، استعفے یا برطرفی کی صورت میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان شوریٰ کے ایک رکن رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔
آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق اگر ان تین افراد میں سے کوئی ان ذمہ داریوں سے معذوری کا اظہار کرے تو پھر ان کی جگہ ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ (فقہا کی اکثریت) ان کی جگہ نیا رکن مقرر کرے گی۔
اس کے بعد مرحلہ رہبرِ اعلیٰ کی تقرری کا آتا ہے۔ اس عہدے کے لیے کسی شخصیت کا انتخاب مجلس خبرگان رهبری کرتی ہے۔ یہ 88 فقہا کی ایک اسمبلی ہے، جس کے اراکین کا انتخاب ہر آٹھ برس کے بعد ہوتا ہے۔
مجلس خبرگان رهبری کو ’جتنی جلدی ممکن ہو سکے‘ رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے لیے معیاد کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ اگر مجلس خبرگان رهبری دو تہائی اکثریت سے کسی کو رہبرِ اعلیٰ منتخب نہیں کرتی تو پھر تکنیکی طور پر عبوری کونسل ہی رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اُٹھاتی ہے۔
اسلام آباد میں واقع ایرانی سفارت خانے میں آویزاں سپریم لیڈر کی تصویر کے ساتھ باقاعدہ طور پر ’شہید‘ لکھ دیا گیا ہے اور سفارتی سطح پر تعزیتی کتاب بھی رکھ دی گئی ہے۔
علی لاریجانی، جن کا نام وصیت میں موجود ہے، کو نظام اور فوج کے اندر وسیع حمایت حاصل ہے، جس کے باعث وہ تہران کے اگلے طاقتور ترین مردِ آہن بن کر ابھر رہے ہیں۔
ایران میں اس وقت ہنگامی حالت نافذ ہے اور پوری قوم اپنے عظیم رہنما کے سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے، جبکہ سرحدوں پر کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔

