تحریر: رانا افضل رزاق ایڈووکیٹ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
حکومتِ پنجاب کی جانب سے پولیس چھاپوں کے لیے تین لازمی فارم: پری ریڈ پرمیشن، گرفتاری اور تفتیشی گائیڈ لائنز، کا نفاذ بظاہر ایک مثبت قدم ہے۔ ریاستی طاقت کے استعمال کو تحریری اور جواب دہ بنانا آئینی تقاضا بھی ہے اور قانونی ضرورت بھی۔ تاہم بطور فوجداری وکیل اصل سوال اس کے عملی نفاذ اور احتساب کا ہے۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 9 اور 14 شہریوں کو قانون کے مطابق سلوک، آزادی اور انسانی وقار کی ضمانت دیتے ہیں۔ ضابطہ فوجداری میں بھی گرفتاری و تفتیش کا طریقہ کار پہلے سے موجود ہے۔ لہٰذا نئے فارمز کی افادیت اس امر پر منحصر ہے کہ آیا یہ موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہیں یا صرف ایک اضافی رسمی مرحلہ ہیں۔
پری ریڈ پرمیشن فارم غیر قانونی چھاپوں اور اختیارات کے بے جا استعمال کو محدود کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی آزادانہ نگرانی ہو۔ گرفتاری فارم میں ملزم کی جسمانی حالت اور مبینہ تشدد کے اندراج کی شرط خوش آئند ہے، مگر اگر اندراج خلافِ واقعہ ہو تو ذمہ داری کا تعین کیسے ہوگا؟ کیا غلط بیانی قابلِ تعزیر ہوگی؟ کیا طبی معائنہ لازمی اور غیر جانبدار ہوگا؟
تفتیشی گائیڈ لائنز فارم شفافیت کی کوشش ہے، لیکن ہمارے نظام کا بنیادی مسئلہ قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ عملدرآمد کی کمزوری ہے۔ جب تک شواہد کے تحفظ، فرانزک معیار اور ملزم کے وکیل تک بروقت رسائی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تحریری اندراج انصاف کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
اصلاحات کی کامیابی کا دارومدار کاغذی تکمیل پر نہیں بلکہ مؤثر نگرانی، جواب دہی اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی پر ہے۔ اگر یہ عناصر شامل نہ ہوئے تو یہ اقدام بھی محض فائلوں کی زینت بن کر رہ جائے گا؛ بصورتِ دیگر یہ پولیس کلچر میں حقیقی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔


