وزارت اطلاعات نے ہفتے کو بتایا ہے کہ افغانستان کے حالیہ حملوں کے ردعمل میں آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستانی فوج کی جوابی کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان کے 331 اہلکار جان سے گئے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور اور بنوں ریجن کے تھانوں اور چوکیوں پر عسکریت پسندوں کے متعدد حملے ناکام بنا دیے گئے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں جمعرات کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ہفتے کی صبح ایک پوسٹ میں افغانستان کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کے حملوں میں افغان طالبان کے 331 اہلکار جان سے گئے اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
Operation Ghazb lil Haq
Update 2300 hours 27 Feb✅*Summary of Afg Taliban losses*
▪️ 297 Killed,
▪️450 + Injured,
▪️89 Check posts destroyed,
▪️18 Post Captured,
▪️135 Tanks and Armed vehicles Destroyed
▪️29 Locations across Afghanistan effectively targeted by air— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 27, 2026
انہوں نے مزید بتایا کہ اس آپریشن کے دوران اب تک افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں تباہ اور 22 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے جب کہ 163 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان نے افغانستان میں 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔‘
دوسری جانب خیبرپختونخوا پولیس نے جمعے کی شب بتایا کہ پشاور اور بنوں ریجن کے تھانوں اور چوکیوں پر عسکریت پسندوں کی طرف سے کیے جانے والے متعدد حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔

