راولپنڈی : اسلام آباد کی مقامی عدالت نے صحافی خالد جمیل کو پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا ، فوری رہا کرنے کا حکم۔
صحافی خالد جمیل کو ایف آئی اے نے سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ محمد مرید عباس خان کی عدالت میں پیش کر دیا، ایف آئی آر میں خالد جمیل کی سیاچن، کارگل سے متعلق ٹویٹ کا ذکر ہے اور دو دن کا ریمانڈ مانگا گیاتھا۔
صحافی کیطرف سے دلائل دیتے ہوئے ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ھادی علی چٹھہ نے دلائل دئیے کہ صحافی اپنی ٹویٹ کو تسلیم کرتا ہے اور ایسی ٹویٹوں میں سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ٹرائل کورٹ نے کرنا ہے پولیس ریمانڈ کے دوران نہیں اس لئیے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا جائے۔
صحافی خالد جمیل نے پیش کے موقع پرشعر پڑھا نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔
ایف آئی اے نے صحافی ملزم کا موبائل اپنی تحویل میں ہونے کا اعتراف کر لیا، جج نے چھ دن کے ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے صحافی خالد جمیل کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔

