Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      لندن دنیا کا پہلا شہر، اوبر کی روبو ٹیکسی سروس شروع

      ” پجیرو کی واپسی “ LEGEND IS BACK

      گوگل میسجز کی خرابی، پرانے پیغامات غلط افراد کو بھیجے جانے کا انکشاف

      196 ملین پاؤنڈ کا مالیاتی خسارہ: جیگوار لینڈ روور (JLR) نے پھربھی اپنی پہلی الیکٹرک لگژری گاڑی مارکیٹ میں اتار دی

      سوشل میڈیاپلیٹ فارم ‘ایکس’ پر بڑا سائبر حملہ ناکام:ہیکرز کی تلاش ، کیا کروڑوں صارفین کا ڈیٹا محفوظ ہے؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    یوم آزادی پر صوبے کو بڑی دہشت گردی سے بچا لیا، سرفراز بگتی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    کوئٹہ :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے کی ایک سرکاری یونیورسٹی کے استاد  کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خودکش سکواڈ ’مجید بریگیڈ ‘ سے تعلق اور خودکش حملہ آوروں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
    وزیراعلیٰ کے مطابق پہلی مرتبہ بی ایل اے کا اس بڑے اور منظم درجے کا  شخص قانون کی گرفت میں آیا ہے۔ ملزم نومبر میں کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر خودکش حملے کا سہولت کار تھا اور اس نے اس حملہ آور کو بھی پناہ دی جو یومِ آزادی کی تقریبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
    پیر کو وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کوئٹہ میں ترجمان صوبائی حکومت شاہد رند، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات، ایڈیشنل آئی جی اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ سکیورٹی ادارے، پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اس کامیاب کارروائی پر مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے بلوچستان کو بڑی تباہی سے بچایا۔ ان کے مطابق 14 اگست کو خودکش حملہ آور یومِ آزادی منانے والے شہریوں کو نشانہ بنانے والے تھے۔
    ۔بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) کے گریڈ 18 کے لیکچرار ڈاکٹر محمد عثمان قاضی کی بھائی کے ہمراہ کوئٹہ کے علاقے افنان ٹاؤن سے گرفتاری کی خبر 12 اگست کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سامنے آئی تھی تاہم پیر کو وزیراعلیٰ نے باقاعدہ اس کی تصدیق کی ۔
    پریس کانفرنس میں ڈاکٹر محمد عثمان قاضی کا ویڈیو اعترافی بیان بھی دکھایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ’میں تربت کا رہائشی ہوں اور وہیں پلا بڑھا ہوں۔ تعلیم ملک کے اچھے اداروں سے حاصل کی۔ قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور ایم فل کیا اور پھر پشاور یونیورسٹی سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے وظیفے پر پی ایچ ڈی کی۔ بیوٹمز میں گریڈ 18 کا لیکچرار تھا۔ میری اہلیہ بھی سرکاری ملازمہ ہے۔‘
    گرفتاریونیورسٹی ٹیچر کا کہنا تھا کہ ’جب میں 2020 میں پشاور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا، وہاں سے میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد گیاجہاں تین دوستوں سے ملاقات ہوئی جو تنظیم ( بی ایل اے ) میں شامل تھے۔ بعد میں ان میں سے دو مارے گئے۔ اس کے بعد ڈاکٹر ہیبتان عرف کالک (کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے رکن) نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے تنظیم میں شامل کیا۔ وہاں سے میرا رابطہ بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب سے کرایا گیا۔ یہ سارے رابطے ٹیلی گرام کے ذریعے ہوتے تھے۔‘ڈاکٹر عثمان قاضی کے مطابق کوئٹہ آنے کے بعد انہوں نے مجھ سے تین کاموں میں سہولت کاری لی۔ تنظیم میں میرا نام ’امیر‘ رکھا گیا۔ پہلا کام یہ تھا کہ شیر دل عرف بوہیر قلات میں فورسز کے ساتھ لڑائی میں زخمی ہوا تو میں نے اسے علاج کے لیے جگہ دی۔وہ کئی دن رہنے کےبعد واپس چلا گیا۔‘
    ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال نومبر میں ڈاکٹر ہیبتان نے ایک اور بندے کو جگہ دینے کا کہا میں نے اسے دو راتیں ٹھہرایا۔ وہ رفیق بزنجو تھا جو خودکش حملہ آور تھا۔ میں نے واقعے سے ایک دن پہلے اسے حوالے کیااور دوسرے دن اس نے ریلوے سٹیشن پر خودکش حملہ کیا جس میں معصوم شہری اور سکیورٹی اہلکار وں کی جانیں ضائع ہوئیں۔‘
    ان کا کہنا تھا کہ ’بعد میں ڈاکٹر ہیبتان نے ایک اور ٹارگٹ دیا جس کا نام نعمان عرف فیدک تھا۔ وہ سات آٹھ دن میرے پاس رہا پھر میں نے اسے جمیل عرف نجیب کے حوالے کیا جو اسے 14 اگست کی کسی تقریب میں استعمال کرنے والے تھے۔ ‘
    ویڈیو بیان میں گرفتار ملزم نے کہا کہ انہوں نے ایک پستول بھی لیا جسے انہوں نے ایک خاتون کے حوالے کیا۔ وہ ٹارگٹ کلنگ سکواڈ کو دیا گیا اور سکیورٹی فورسز یا سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے میں استعمال ہوا۔
    گرفتار ڈاکٹرعثمان قاضی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’ریاست نے مجھے سب کچھ دیا عزت، وقار، نوکری اور میرے خاندان اور اہلیہ کو نوکری دی ۔ اس کے باوجود میں نے قانون کی خلاف ورزی اور ریاست کے ساتھ غداری کی۔ میں اس پر شرمندہ ہوں اور افسوس کرتا ہوں۔ اس ویڈیو پیغام کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان اور طلبہ اس طرح کی انتشار پھیلانے والی تنظیموں سے خود کو دور رکھیں۔‘پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ’نومبر میں کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر خودکش حملے میں 32 افراد شہید ہوئے تھے جن میں 10 عام شہری اور باقی سکیورٹی اہلکار تھے جبکہ پچاس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ عثمان قاضی خودکش حملہ آور کو موٹر سائیکل پر سٹیشن کے قریب لاکر دوسرے ہینڈلر کے حوالے کر کے گیا تھا۔‘
    انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اس لڑائی کو احساسِ محرومی سے جوڑا جاتا ہے جو درست نہیں۔ یہ شخص خود 18 گریڈ کا لیکچرار ہے، اہلیہ سرکاری ملازمہ ہیں، والدہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمہ اور پنشنر ہیں، بھائی ریکوڈک منصوبے میں ملازم ہے اور سرکاری وظیفے پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکا ہے۔ یہ کسی طرح بھی محرومی کا شکار نہیں۔
    وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ مجید بریگیڈ تین چار درجوں میں کام کرتی ہے۔ پہلا درجہ عام فٹ سولجرزکا ہے جنہیں پروپیگنڈے کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے جو خودکش حملے کرتے ہیں یا پہاڑوں پر لڑتے ہیں ۔ دوسرا شہروں کے اندر سہولت کاروں کا ہے جس میں خواتین بھی شامل ہیں، اسی طرح خواتین کو بلیک میل کرکے خودکش حملوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ تیسرا اعلیٰ سطح کا منظم اور پیچیدہ (sophisticated )لیئر ہے ۔یہ پہلی بار ہے مجید بریگیڈ کے اتنی بڑی sophisticated سطح کا آدمی (ڈاکٹر عثمان قاضی ) پکڑا گیا ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ ’جب خودکش حملہ آور کو گرفتار کرنے کے لیے سی ٹی ڈی گئی تو اہل محلہ نے مزاحمت کی اور اسے بھگایا۔اس پر لوگوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کیاگیا۔ ہم عوام سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ ان لوگوں سے دور رہیں ورنہ سہولت کار قرار پائیں گے اور پھر قانون کے مطابق سزا کے حقدار ہوں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ آپ کے بچے کیا کام کرنے جارہے ہیں۔ کس طرف ان کی توجہ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ اگر پروفیسر بھی دہشتگردی میں ملوث ہوں تو انہیں سزا دی جائے گی ہار نہیں پہنایا جائے گا ۔ یہ ریاست کی بڑی کامیابی ہے کہ اس نے دہشت گردوں کے ایسے نیٹ ورک کو توڑا جو بظاہر مطالعہ پاکستان کا پروفیسر بن کر طلبہ کو پڑھا رہے تھے اور خود کو حب الوطن ظاہر کررہے تھے لیکن اندرونی طور پر دہشتگرد تنظیم سے وابستہ تھے۔ان کی اہلیہ بھی استانی ہیں سوچیں انہوں نے کتنے طلبہ اور لوگوں کی ذہن سازی کی ہوگی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ گزشتہ پندرہ برسوں سے بارہا کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو منظم سازش کے تحت توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری سیاسی قیادت اور مرکزی جماعتیں اس حوالے سے ابہام کا شکار ہیں۔ بعض فورمز پر اس دہشتگردی کو محرومی یا حقوق کی لڑائی کا رنگ دیا جاتا ہے جو درست نہیں۔ یہ حقوق کی لڑائی نہیں بلکہ دہشتگردی ہے اور انہیں غیر ملکی ایجنسی کی مدد حاصل ہے۔
    ان کا کہنا تھاکہ ’ذہن سازی عسکریت پسندی سے زیادہ خطرناک ہے ۔ پچھلی حکومتیں دہشت گردی کی اس جنگ کو دہشت گردوں اور ریاست کے درمیان لڑائی سمجھتے تھے ہم نے اس جنگ کو اپنایا ہے اور عسکری اور قانونی دونوں سطحوں پر لڑرہے ہیں۔‘
    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت گرے ایریا میں کام کررہی ہے کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے کہ کون دہشت گرد اور کون نہیں ۔ ’عثمان قاضی جیسے دہشت گردوں نے میرے جیسا لباس پہنا ہوا ہے کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا ہوا کہ وہ دہشت گرد ہے، اس لیے مشتبہ افراد پر نظر رکھنے کے لیے سپیشل برانچ کو فعال کیا جارہا ہے ‘۔
    ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے محکمہ داخلہ بلوچستان میں ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں ایک علیحدہ سیل قائم کیا ہے جو ان افراد کی نگرانی کرتا ہے جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا شبہ ہو۔ ایسے مشکوک افراد کو ’فورتھ شیڈول‘ میں شامل کر کے ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دو سے اڑھائی ہزار لوگ خاص کر سرکاری ملازمین کی تحقیقات کی ہیں کچھ بے گناہ تھے ان کے نام اس فہرست سے نکال دیے گئے، کچھ سے وضاحت مانگی گئی۔ کچھ کو معطل یا نوکریوں سے برطرف کردیا۔
    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی بات غلط ہے۔ یہاں طاقت کا استعمال محدود اور ہدفی کارروائیوں کی صورت میں کیا جا رہا ہے تاکہ عام شہری متاثر نہ ہو

     

    Related Posts

      چکوال سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کا   افتتاح  ،   عطاء اللہ تارڑ کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت

    کارساز باپ بیٹی ہلاکت کیس: اہم پیشرفت، ملزمہ نتاشا منشیات کے مقدمے سے بھی بری

    کار اور موٹر سائیکل میں خوفناک تصادم، 1 شخص جاں بحق، 1 زخمی، بچہ محفوظ

    مقبول خبریں

      چکوال سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کا   افتتاح  ،   عطاء اللہ تارڑ کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت

    لندن دنیا کا پہلا شہر، اوبر کی روبو ٹیکسی سروس شروع

    کارساز باپ بیٹی ہلاکت کیس: اہم پیشرفت، ملزمہ نتاشا منشیات کے مقدمے سے بھی بری

    صدر ٹرمپ نے ایڈم ٹیلی کو نیا وزیر فوج مقرر کردیا

    کار اور موٹر سائیکل میں خوفناک تصادم، 1 شخص جاں بحق، 1 زخمی، بچہ محفوظ

    بلاگ

    پوڈکاسٹ خاموشی سے ہمارے سننے کا انداز بدل رہا ہے

    ایک کھرب ڈالر کی نایاب معدنیات کی پیشکش ٹھکرا دی، اس کی جگہ طالبان سے امریکا نے کیا مانگا؟ عبداللہ گل کا بڑا انکشاف

    اور :- یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے !!!

    منزہ گوئندی کے ساتھ ایک شام — ادب، محبت اور یادوں کی خوشبو

    نہاگدرہ۔۔۔تحصیل واڑی کا ایک منفرد وزٹ سپاٹ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.