کراچی :اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے نئی شرحِ سود 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردی ہے جب کہ نئی شرح سود کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔
پیر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں معاشی صورت حال، مہنگائی کے رجحانات، عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور دیگر اہم معاشی اشاریوں کا جائزہ لینے کے بعد پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوگئی ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نئی شرح سود کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ فیصلے میں کمیٹی کے 10 ارکان نے حصہ لیا، جن میں سے 9 نے شرح سود بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا جب کہ ایک رکن نے اس کی مخالفت کی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس کے بعد عالمی اور ملکی معاشی صورت حال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا مسلسل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنا اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی پر دباؤ بڑھا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں گندم کی قیمتوں سمیت دیگر عوامل کو بھی پالیسی ریٹ کے فیصلے میں مدنظر رکھا گیا۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ گزشتہ جائزوں کے دوران توقع تھی کہ مہنگائی کی شرح آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی تک 7 فیصد کے قریب آجائے گی تاہم عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں اور ان کے بالواسطہ اثرات کے باعث مہنگائی کو ہدف کی سطح پر لانے میں پہلے اندازے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران بنیادی مہنگائی میں بہتری آئی ہے تاہم آئندہ مہینوں میں تیل کی قیمتوں کے ثانوی اثرات باعث تشویش ہیں۔ صارفین کی جانب سے مہنگائی سے متعلق توقعات اور معاشی ماہرین کی پیش گوئیوں کو بھی مانیٹری پالیسی کے جائزے میں شامل کیا گیا ہے۔
زری پالیسی کمیٹی نے آج اپنے اجلاس میں پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا جس کا اطلاق 27 اکتوبر 2026ء سے ہوگا۔ کمیٹی کے دس میں سے 9 ارکان نے اس فیصلے کے حق میں رائے دی۔
https://t.co/WtH50ZrJkI https://t.co/ISyumUBtHu— SBP (@StateBank_Pak) October 26, 2026
جمیل احمد نے مزید کہا کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس کے بعد عالمی حالات میں تبدیلی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث معاشی منظرنامہ تبدیل ہوا ہے، جس کے پیش نظر شرح سود بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ عالمی منڈی میں اشیا، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کے بیرونی کھاتے پر دباؤ بڑھا ہے۔ درآمدات میں اضافے کے سبب برآمدات اور ترسیلات زر میں بہتری کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ کی صورت حال گزشتہ جائزے کے مقابلے میں متاثر ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ جمیل احمد کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جبکہ رواں مالی سال کے لیے ترسیلات زر کا تخمینہ 44 ارب ڈالر سے بڑھا کر 45 ارب ڈالر کردیا گیا ہے۔
جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے شروع کی گئی ترسیلات زر سے متعلق اسکیم اور بیرون ملک روزگار کے رجحانات کے باعث آنے والے مہینوں میں ترسیلات زر مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی برآمدات 32.5 ارب سے 33 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں برآمدات کا حجم 30.8 ارب ڈالر تھا تاہم انہوں نے کہا کہ درآمدات میں اضافے کا دباؤ برقرار ہے اور رواں مالی سال کے دوران درآمدی بل تقریباً 71 ارب ڈالر یا اس سے زیادہ رہ سکتا ہے جب کہ گزشتہ مالی سال میں درآمدات کا حجم تقریباً 64.5 ارب ڈالر تھا۔
ان کے مطابق درآمدات میں اضافے کے باعث ترسیلات زر اور برآمدات میں بہتری سے حاصل ہونے والے فوائد کا کچھ حصہ زائل ہوسکتا ہے، جس سے بیرونی کھاتے پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
جمیل احمد نے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیرونی کھاتے میں 2022 کے بعد نمایاں بہتری آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2023 میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر 2.8 ارب ڈالر رہ گئے تھے، جو تقریباً دو ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے تاہم اب زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے لیے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح کا نظرثانی شدہ تخمینہ 3.7 فیصد رہا جب کہ مالی سال کے آغاز پر یہ شرح 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں اوسط معاشی ترقی کی شرح 4.2 فیصد رہی اور ہر سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں میں استحکام دیکھا گیا تاہم آخری سہ ماہی میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے باعث معاشی سرگرمیاں سست ہوئیں، جس سے سالانہ شرح نمو متاثر ہوئی۔
جمیل احمد کے مطابق مالی سال کی آخری سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح توقعات سے کم رہی، جس کے نتیجے میں پورے سال کی شرح نمو 3.7 فیصد پر آگئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے حتمی اعداد و شمار ابھی جاری نہیں ہوئے تاہم ابتدائی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ برقرار رکھا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی کارکردگی بہتر رہنے کی توقع ہے۔ پہلی سہ ماہی کے دوران گنے، چاول اور مکئی کی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا تاہم کپاس کی پیداوار توقعات سے کم رہی۔ ان کے مطابق بڑی فصلوں کی مجموعی پیداوار میں بہتری سے زرعی شعبے کی کارکردگی کو سہارا ملنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اپریل 2026 میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کو لاحق خطرات کے پیش نظر شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ جائزوں میں پالیسی ریٹ برقرار رکھا گیا۔
اس سے قبل دسمبر 2025 میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی گئی تھی، جس کے بعد جنوری اور مارچ میں اسے 10.5 فیصد پر برقرار رکھا گیا تھا۔ جون 2023 میں پاکستان میں بنیادی شرح سود ریکارڈ 22 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

