واشنگٹن / کیو : یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ معرکوں نے جدید جنگی حکمتِ عملی، ڈرون ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک وارفیئر (Electronic Warfare) کی روایتی تعریفیں بدل کر رکھ دی ہیں۔
تجزیہ کاروں اور عسکری ماہرین کے مطابق الیکٹرانک وارفیئر اور ’الیکٹرو میگنیٹک سپیکٹرم‘ (EMS) کی دنیا میں عسکری برتری کی معیاد اب مہینوں اور سالوں کے بجائے محض چند دنوں اور ہفتوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (AI) اور سافٹ ویئر نیٹ ورکس جنگی کامیابی کا اصل معیار بن چکے ہیں۔
جنوری 2026 کے آخر میں کیو کے حکومتی علاقے پر ایک روسی BM-35 سٹرائیک ڈرون کی پرواز اور اس پر لگے ’اسٹار لنک‘ (Starlink) سیٹلائٹ ٹرمینل کو ڈس ایبل کرنے کا واقعہ اس جدید جنگ کی ایک روشن مثال ہے۔ یوکرائنی جامرز جس سگنل کو توڑنے میں ناکام رہے تھے، امریکی کمپنی ’سپیس ایکس‘ (SpaceX) نے محض 24 گھنٹوں میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ ٹرمینلز کی وائٹ لسٹنگ اور سافٹ ویئر کی سطح پر رسائی کی معطلی کے ذریعے روسی ڈرون آپریشنز کا سارا فائدہ چند دنوں میں صفر کر دیا۔ یہ کارروائی روایتی الیکٹرانک جامنگ کے برعکس نیٹ ورک رسائی اور سافٹ ویئر کنٹرول کے ذریعے سرانجام دی گئی۔
میدانِ جنگ میں الیکٹرانک جامنگ سے نمٹنے کے لیے یوکرائنی اور عالمی عسکری سائندانوں نے تین اہم حکمتِ عملیوں یا تہوں (Layers) کو اپنایا ہے:
سگنلز اور ویو فارمز (Waveforms): سگنل جامنگ کے مقابلے میں ہر ہفتے نئی فریکوئنسی اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹس جاری کی جاتی ہیں۔ واشنگٹن کی ویسٹ پوائنٹ ماڈرن وار انسٹی ٹیوٹ کے مطابق برگیڈز کی سطح پر چند دنوں میں اختراعات کی جاتی ہیں جبکہ روایتی حکومتی نظام میں جدید ہتھیار تیار کرنے میں اوسطاً 12 سال کا وقت لگتا ہے۔
فائبر آپٹک ڈرونز (Fiber-Optic Drones): جامنگ سے بچنے کے لیے ڈرونز کے ساتھ باریک فائبر آپٹک تاریں جوڑ دی گئی ہیں جن سے کوئی ریڈیو سگنل خارج نہیں ہوتا۔ اپریل 2026 تک یوکرین کے کل سٹرائیک ڈرونز کا 32 فیصد حصّہ انہی فائبر آپٹک ڈرونز پر مشتمل تھا۔
خودکار اور بصری نیویگیشن (AI Visual Navigation): جی پی ایس (GPS) جامنگ کے توڑ کے طور پر ’کرسٹ ورکس‘ کے ’گھوسٹ ڈریگن‘ جیسے الگورتھم تیار کیے گئے ہیں، جو ڈرونز کو جی پی ایس اور مواصلاتی رابطوں کے بغیر بھی اپنے ہدف تک درست پرواز کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (CSIS) کی سال 2025 کی رپورٹ کے مطابق AI نیویگیشن کے حامل یوکرائنی ڈرونز کی ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت 10%-20% سے بڑھ کر 70%-80% تک پہنچ گئی ہے۔ AI سگنل کو پہچاننے، کلاسیفائی کرنے اور اس کا توڑ (Countermeasure) تیار کرنے کے عمل کو مہینوں سے گھٹا کر منٹوں میں لے آیا ہے۔ DARPA کا ‘BLADE’ پروگرام اس کی واضح مثال ہے جس نے میدانِ جنگ میں غیر معروف وائرلیس خطروں کی فوراً نشاندہی کر کے اس کا توڑ پیدا کیا۔
علاوہ ازیں، مشرقِ وسطیٰ میں جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے 5114 ویں سپیکٹرم وارفیئر بٹالین نے الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے ایران کی طرف سے داغے گئے تقریباً 1,100 ڈرونز میں سے 25 فیصد کو کامیابی سے تباہ کیا۔ خلیجی خطے میں جی پی ایس جامنگ کے 10 لاکھ سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے جو عالمی سطح کے واقعات کا 98 فیصد تھے۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دور کی جنگیں صرف میزائلوں یا گولا بارود کی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی الیکٹرانک اور سیٹلائٹ سسٹمز کے درمیان ”لرننگ لوپ“ (Learning Loop) کی جنگیں ہوں گی، جہاں سب سے تیز ردِعمل دینے والا نظام ہی فتح حاصل کرے گا۔

