تحریر: سدیس شیخ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
سیاست کے میدان میں موسم بدلتے رہتے ہیں، اقتدار کے سورج طلوع بھی ہوتے ہیں اور غروب بھی، سیاسی وفاداریوں کے رنگ بھی بدلتے ہیں اور اقتدار کی راہداریوں میں چہروں کی آمدورفت بھی جاری رہتی ہے۔ مگر اس سارے کھیل میں سب سے دلچسپ کردار ان فصلی بٹیروں کا ہوتا ہے جو ہر بدلتے موسم کے ساتھ اپنا آشیانہ، اپنی بولی اور اپنی وفاداری تبدیل کر لیتے ہیں۔ ان کا نہ کوئی مستقل سیاسی نظریہ ہوتا ہے، نہ اصولوں سے وابستگی اور نہ ہی کسی جماعت کے منشور سے حقیقی دلچسپی۔ ان کی سیاست کا محور صرف اور صرف ذاتی مفادات ہوتے ہیں۔
آج کا یہ کالم سب ڈویژن واڑی کی سیاست کے ایک اہم کردار، پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور دیرینہ سیاسی رہنما صاحبزادہ ثناء اللہ کے نام ہے۔
صاحبزادہ صاحب!
آپ نے سیاست کے میدان میں نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ اقتدار کی بہاریں بھی دیکھی ہیں اور سیاسی مخالفت کی خزائیں بھی۔ آپ ان سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنی جماعت کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ سب ڈویژن واڑی میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ذکر ہو تو آپ کا نام بھی نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔
لیکن آج ہم آپ کو ماضی کا ایک ورق یاد دلانا چاہتے ہیں، شاید اس میں مستقبل کے لیے کوئی سبق پوشیدہ ہو۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اقتدار کے امکانات پیدا ہوتے ہی سیاسی وفاداریوں کی نئی صف بندیاں بھی زیرِ بحث آنے لگی ہیں۔ ایسے ماحول میں سب ڈویژن واڑی کے بعض حلقوں میں بھی ان شخصیات کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں جو ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قریب رہی ہیں اور اب ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی کی قیادت سے قربت بڑھانے کی خواہش مند دکھائی دیتی ہیں۔
ہم کسی شخص کی سیاسی جماعت میں شمولیت کے مخالف نہیں۔ سیاسی وابستگی اختیار کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی وفاداری محض اقتدار کی سیڑھی چڑھنے کا نام ہے؟ کیا نظریات، اصول، احسان شناسی اور سیاسی اخلاقیات کی بھی کوئی اہمیت باقی رہ گئی ہے؟
صاحبزادہ صاحب!
وہ وقت بھی یاد کیجیے جب آپ رکن صوبائی اسمبلی تھے۔ آپ کے دور میں مختلف سرکاری اداروں سے وابستہ بعض شخصیات کو آپ کی سیاسی سرپرستی اور تعاون حاصل رہا۔ ان میں محکمہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کا ذکر بھی مقامی حلقوں میں کیا جاتا رہا ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے کبھی آپ کی قربت اور تعاون سے فائدہ اٹھایا، کیا انہوں نے مشکل سیاسی حالات میں بھی آپ کا ساتھ دیا؟ یا پھر اقتدار کا موسم بدلتے ہی انہوں نے اپنے سیاسی راستے جدا کر لیے؟
بالخصوص سب ڈویژن واڑی کے محکمہ تعلیم سے متعلق بعض شخصیات کی سیاسی قربتوں اور بدلتے رویوں کے بارے میں مقامی سطح پر جو سوالات اٹھائے جاتے ہیں، وہ توجہ کے مستحق ہیں۔ تاہم کسی سرکاری افسر کے خلاف محض سیاسی قربت یا افواہ کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرنا بھی مناسب نہیں۔ اصل معیار اس کی دیانت داری، پیشہ ورانہ کارکردگی، قانون کی پاسداری اور عوامی خدمت ہونا چاہیے۔
صاحبزادہ صاحب!
سیاست میں سب سے خطرناک دشمن وہ نہیں ہوتا جو سامنے کھڑا ہو کر اختلاف کرے، بلکہ بعض اوقات وہ شخص زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے جو مفادات کی خاطر دوستی کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔
ایسے لوگ اقتدار میں آپ کے قصیدے پڑھتے ہیں، مشکل وقت میں راستہ بدل لیتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے ہی دوبارہ آپ کے گرد جمع ہونے لگتے ہیں۔
ان کی زبان پر وفاداری کے نعرے ہوتے ہیں، مگر نگاہیں ہمیشہ اپنے مفادات پر جمی رہتی ہیں۔
یہ وہ فصلی بٹیر ہیں جو فصل دیکھ کر اترتے ہیں اور کھیت اجڑنے سے پہلے ہی پرواز کر جاتے ہیں۔
آج اگر سب ڈویژن واڑی میں بعض شخصیات دوبارہ آپ کے قریب آنے کی کوشش کر رہی ہیں تو ان کے ماضی، کردار اور سیاسی رویوں کو ضرور پرکھیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کے آزمودہ چہرے آج نئے دعوؤں کے ساتھ سامنے آئیں اور وہ کارکن ایک مرتبہ پھر نظرانداز ہو جائیں جنہوں نے مشکل حالات میں بھی جماعت کا پرچم تھامے رکھا۔
یاد رکھیے! سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے موقع پرست نہیں، بلکہ وہ مخلص کارکن ہوتے ہیں جو اقتدار کے بغیر بھی اپنے نظریے سے وابستہ رہتے ہیں۔
سب ڈویژن واڑی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایسے کارکن یقیناً موجود ہیں جنہوں نے سیاسی مشکلات، مخالفتوں اور نامساعد حالات کے باوجود جماعت سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔ اگر کل کو سیاسی حالات تبدیل ہوتے ہیں اور جماعت کو عوامی خدمت کا موقع ملتا ہے تو سب سے پہلے انہی مخلص، باصلاحیت اور اصول پسند لوگوں کی خدمات کا اعتراف ہونا چاہیے۔
تاہم سرکاری اداروں میں تقرریوں، تبادلوں اور ترقیوں کا فیصلہ سیاسی وفاداری کی بنیاد پر نہیں بلکہ میرٹ، اہلیت اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی افسر کو محض اس لیے نوازنا کہ وہ کسی سیاسی شخصیت کے قریب ہے، یا کسی اہل شخص کو اس لیے محروم رکھنا کہ اس کا کوئی سیاسی سہارا نہیں، دونوں صورتیں انصاف کے منافی ہیں۔
خصوصاً محکمہ تعلیم جیسے مقدس شعبے میں سیاسی مداخلت کی گنجائش کم سے کم ہونی چاہیے۔ واڑی کے تعلیمی اداروں کو ایسے افسران کی ضرورت ہے جو اپنی کرسی بچانے کے بجائے بچوں کے مستقبل کی فکر کریں، اساتذہ کے مسائل حل کریں اور تعلیمی معیار بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
صاحبزادہ صاحب!
آپ کے لیے یہ وقت سیاسی بصیرت، احتیاط اور درست فیصلوں کا تقاضا کرتا ہے۔ آپ کو اپنے پرانے ساتھیوں اور نئے آنے والوں میں فرق ضرور رکھنا چاہیے، لیکن اس فرق کی بنیاد ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے کردار، قابلیت اور اخلاص ہونا چاہیے۔
جو شخص ماضی میں کسی دوسری جماعت کے ساتھ وابستہ رہا، ضروری نہیں کہ وہ آج بھی بدنیت ہو۔ انسان اپنے سیاسی نظریات تبدیل کر سکتا ہے۔ لیکن جو شخص ہر تبدیلی کے ساتھ صرف اپنے مفادات کی خاطر نئی صف میں کھڑا ہو جاتا ہے، اس کے دعوؤں کو ضرور جانچنا چاہیے۔
ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ اپنے گرد جمع ہونے والے ہر شخص کو وفادار اور ہر خوشامد کرنے والے کو خیرخواہ سمجھنے کی غلطی نہ کیجیے۔
کیونکہ خوشامد کی زبان اکثر اتنی میٹھی ہوتی ہے کہ انسان کو اس کے پیچھے چھپا ہوا مفاد دکھائی نہیں دیتا۔
واڑی کے عوام کو سیاسی جوڑ توڑ سے زیادہ اپنے مسائل کے حل کی ضرورت ہے۔ یہاں تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کے حوالے سے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ سیاسی قیادت ان کے مسائل حل کرتی ہے یا محض چند مخصوص شخصیات کے مفادات کی محافظ بن کر رہ جاتی ہے۔
صاحبزادہ ثناء اللہ صاحب!
یہ کالم نہ آپ کی مخالفت میں ہے، نہ کسی مخصوص سرکاری افسر کے خلاف ذاتی مہم۔ یہ محض ایک قلمکار کی طرف سے ایک سیاسی رہنما کے نام اصلاحی گزارش ہے۔
اپنے مخلص کارکنوں کو پہچانیے، باصلاحیت لوگوں کی حوصلہ افزائی کیجیے، سرکاری اداروں کو سیاسی مفادات سے محفوظ رکھیے اور ان لوگوں سے محتاط رہیے جن کی وفاداری کا پیمانہ صرف اقتدار ہوتا ہے۔
کیونکہ سیاست میں سب سے بڑی کامیابی اقتدار حاصل کرنا نہیں، بلکہ اقتدار اور اختیار کے باوجود اصولوں کو زندہ رکھنا ہے۔
اور آخر میں صرف اتنا عرض ہے:
صاحبزادہ صاحب! موسم بدل چکا ہو یا بدلنے والا ہو، اپنے سیاسی آنگن کے دروازے ضرور کھلے رکھیے، مگر آنے والے ہر پرندے کو اپنا سمجھ کر آشیانہ نہ دیجیے۔
کیونکہ فصلی بٹیر فصل سے محبت نہیں کرتے، وہ صرف دانے کی تلاش میں آتے ہیں۔ فصل ختم ہو جائے تو ان کی وفاداری بھی ختم ہو جاتی ہے!


