تحریر: مجاہد علی مغل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
آج اچانک میرا رانی پور شریف جانا ہوا، جہاں سندھ کے عظیم روحانی بزرگ اور صوفی شاعر حضرت سچل سرمستؒ کی مشہور درگاہ ہے۔ یہ درگاہ درازہ شریف میں ہے، جو رانی پور کے قریب ضلع خیرپور میں واقع ہے۔
حضرت سچل سرمستؒ کا اصل نام میاں عبد الوہاب فاروقی تھا۔ آپ 1739ء میں پیدا ہوئے اور 1827ء میں تقریباً 90 سال کی عمر میں وصال فرمایا۔ آپ کو "شاعرِ ہفت زباں” کہا جاتا ہے کیونکہ آپ نے سات زبانوں یعنی سندھی، سرائیکی، پنجابی، اردو، فارسی، بلوچی اور عربی میں شاعری کی۔ آپ وحدت الوجود کے قائل تھے اور آپ کا پیغام محبت، امن اور انسانیت تھا۔
درگاہ کے احاطے میں ایک قدیم نورانی کنواں بھی ہے۔ عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ اس کنویں کے پانی سے غسل کرنے سے دل کی مرادیں پوری ہوتی ہیں اور بیماریوں سے شفا ملتی ہے۔ اسی وجہ سے دور دور سے زائرین یہاں آتے ہیں۔
یہ درگاہ تقریباً 200 سال پرانی ہے اور اسے خیرپور کے تالپور حکمران میر رستم خان تالپور نے تعمیر کروایا تھا۔ ہر سال 13 رمضان المبارک کو حضرت کا عرس بڑے عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔
یہ سندھ کی سب سے مشہور درگاہوں میں سے ایک ہے، یہاں تک کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی چوتھی اور پانچویں جماعت کی کتابوں میں بھی حضرت سچل سرمستؒ کا ذکر ملتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی پُرامن اور روحانیت سے بھری جگہ ہے۔


