لاہور: مردوں اور خواتین دونوں میں بانجھ پن (Infertility) کے خطرے کو بڑھانے والی سب سے بڑی اور اہم مشترکہ وجہ غیر صحت مند طرزِ زندگی اور موٹاپا (Obesity) قرار دی گئی ہے، جو تولیدی نظام کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق جدید دور کی غیر متوازن روٹین اس مسئلے کو تیزی سے ہوا دے رہی ہے۔
اہم وجوہات اور عوامل:
-
موٹاپا اور ہارمونل توازن کا بگاڑ: جسم کا بڑھتا ہوا وزن ہارمونز کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ خواتین میں یہ بیضہ بننے کے عمل (Ovulation) کو متاثر کرتا ہے، جبکہ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم ہونے اور سپرم کے معیار میں خرابی کا سبب بنتا ہے۔
-
تمباکو نوشی اور نشہ آور اشیا: سگریٹ نوشی اور دیگر نشہ آور اشیا مردوں میں سپرم کی تعداد اور حرکیات کو کم کرتی ہیں، جبکہ خواتین میں انڈوں کے معیار کو نقصان پہنچا کر قبل از وقت مینوپاز کا سبب بن سکتی ہیں۔
-
فاسٹ فوڈ اور غیر متوازن غذا: پراسیسڈ فوڈز، ضرورت سے زیادہ چینی اور نقصان دہ چکنائیوں کا استعمال جسم میں سوزش (Inflammation) کو بڑھاتا ہے، جو ہارمونز کے درست افعال میں رکاوٹ بنتا ہے۔ دن بھر ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے اور جسمانی سرگرمیوں کے فقدان سے میٹابولزم سست پڑ جاتا ہے، جو تولیدی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔شدید ذہنی تناؤ اور نامکمل نیند جسم میں ‘کورٹیسول’ (Cortisol) ہارمون کی مقدار بڑھاتی ہے، جو تولیدی ہارمونز کی پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔ماہرین کی رائے: ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن غذا کا استعمال، روزانہ باقاعدہ ورزش، وزن کو کنٹرول میں رکھنا اور تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کرکے بانجھ پن کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

