سکھر (رپورٹ: عبد الرحمان راجپوت)
خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسگی سے تحفظ، قانونی حقوق اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے ریجنل آفس صوبائی محتسب سندھ، سکھر کے زیر اہتمام چلڈرن اسپتال سکھر میں آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا۔سیمینار کی صدارت صوبائی محتسب سندھ کے کنسلٹنٹ اور سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اقبال آرائیں نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ”کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسگی سے تحفظ کا ایکٹ 2010ء“ اور اس میں ہونے والی ترامیم کی اہم شقوں، ہراسگی کی قانونی تعریف، ملازمین و اداروں کی ذمہ داریوں، شکایت درج کرانے کے طریقہ کار اور انکوائری کمیٹی کے کردار کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی۔محمد اقبال آرائیں نے زور دیا کہ ہراسگی کے کسی بھی واقعے کی صورت میں متاثرہ فرد کو خوف اور ہچکچاہٹ کے بغیر متعلقہ فورم سے رابطہ کرنا چاہیے اور قانون کے تحت فراہم کردہ شکایات کے ازالے کے نظام سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے شرکاء کو پیغام دیا:”خاموشی توڑیں، ہراسگی ختم کرائیں، بات کریں اور مضبوط رہیں۔“اس موقع پر چلڈرن اسپتال سکھر کے ڈائریکٹر منصور علی کوکر اور ڈپٹی ڈائریکٹر شعیب احمد نے صوبائی محتسب سندھ کی ٹیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے آگاہی پروگرام اداروں میں باہمی احترام، مساوات اور محفوظ و باوقار ماحول کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سیمینار کے دوران سید منظور حسین شاہ نے شرکاء کو صوبائی محتسب سندھ کے ادارے کے تنظیمی ڈھانچے، دائرہ اختیار، مقاصد اور ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ کام کی جگہ پر ہراسگی سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے قانون کے تحت ایک مؤثر فورم فراہم کرتا ہے۔سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں شرکاء نے ہراسگی کے خلاف قانونی تحفظ، شکایت درج کرانے کے طریقہ کار اور قانون کے مختلف پہلوؤں سے متعلق سوالات کیے، جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ تمام شرکاء نے محفوظ، باوقار، مساوی اور ہراسگی سے پاک کام کے ماحول کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

