اسلام آباد : ایوان صدر میں صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں خیبرپختونخوا کے حالات پر تشویش کا اظہار کیاگیا ہے جبکہ اعلی سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ
کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا مشترکہ وفد کل پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کرکے موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔
مشترکہ وفد میں محسن نقوی، رانا ثنا الّلہ، امیر مقام، شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شریک ہوں گے۔
بریکنگ:
صدر اور وزیراعظم کی ملاقات میں خیبرپختونخوا کے حالات پر تشویش کا اظہاراجلاس میں طے کیا گیا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا مشترکہ وفد کل پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کرکے موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔
مشترکہ وفد میں محسن نقوی، رانا ثنا الّلہ، امیر مقام، شیری رحمان،… pic.twitter.com/r9QTbpNhyn
— Shahid Abbasi (@ShahidabbasiPk) October 1, 2026
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہرکا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے ملاقات کی دعوت موصول ہوئی تھی، جسے قبول کرتے ہوئے حکومت سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان ملاقات کل دن 12 بجے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے دفترمیں ہوگی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کو حکومت کی جانب سے کل ملاقات کا پیغام موصول ہوا جسے انہوں نے آج کے اپوزیشن اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی روشنی میں قبول کر لیا۔
انشاء اللہ کل دوپہر 12 بجے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے دفتر میں اپوزیشن اور حکومتی وفود کے درمیان ملاقات… pic.twitter.com/dNcXI83lL8— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) October 1, 2026
ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں مختلف سیاسی امور زیرِ غور آئیں گے جب کہ حکومتی اور اپوزیشن وفود اپنا اپنا نکتہ نظر ایک دوسرے کے سامنے رکھیں گے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد کی دعوت پر ملاقات کا فیصلہ اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی اپوزیشن میٹنگ کے بعد میڈیا ٹاک pic.twitter.com/4NaiICAlpk
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) October 1, 2026
حکومت سے مذاکرات کے معاملے پر اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرتے ہوئے بات چیت کے لیے رضامندی ظاہر کی گئی جب کہ اجلاس لانگ مارچ کی صورت میں حکومتی اقدامات اور اپوزیشن کے جوابی اقدامات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکومت بلکل اہم چیز نہیں ہے ہمارے لئے جن بنیادی اصولوں کے لئے ہم لڑ رہے ہیں وہ اہم ہے کیا وہ ایمر جنسی لگا کر عوام سے ہمارا رشتہ توڑ دیں گے؟؟ بلکل نہیں یہ بے وقوفانہ بات ہوگی عوام کو مذید اکسانے والی بات ہوگی
سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ pic.twitter.com/jvBpDeDscr
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) October 1, 2026
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں لانگ مارچ کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی خبروں پر بھی غور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اسی صورت میں مضبوط ہوتا ہے جب صوبے خود مختار ہوتے ہیں، اگر عوام کی مرضی کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھایا گیا تو اس سے وفاق کمزور ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے تمام تحفظات حکومتی رہنماؤں کے سامنے رکھے، سپریم کورٹ بھی گئے مگر عدالتی احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں کیاگیا۔
بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ہم ابھی بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہمارے پاس باضابطہ طور پر حکومت نے رابطہ نہیں کیا اگر ہمارے ساتھ رابطہ ہوتا ہے تو ضرور بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
🚨قائد حزب اختلاف سینٹ سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
خیبر پختونخوا سے ہم پرامن طور پر چلیں گے
ہمارے ہاتھ میں اسلہ نہیں ہوگا۔ میں یہ لباس پہنا ہوا ہے، اس کی جیب میں قرآن لے کے چلیں گے۔ ہماری جیب میں قرآن ہو گا pic.twitter.com/zhskXAJbDj
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) October 1, 2026
پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس یا اسپیکر آفس کے علاوہ حکومت کے ساتھ پاکستان میں کہیں بھی بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت کے لیے کسی درخت کے نیچے، کسی بھی سیاسی رہنما کے گھر جانے کو تیار ہیں لیکن اسپیکر ہاؤس، وزیراعظم ہاؤس یا وزیراعظم کے چیمبر میں ملاقات کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ان کا یہ بیان وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے انہیں اور بیرسٹر گوہر کو وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی دعوت دیے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں سامنے آیا۔
محمود اچکزئی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات عمران خان سے ملاقات کے بعد ہوگی۔
راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ آئین پاکستانی شہریوں کو پُرامن احتجاج، دھرنے اور لانگ مارچ کا حق دیتا ہے اور یہ جمہوری سیاست کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی اسلام آباد کو کنٹینرز کے ذریعے سیل کرنے، سڑکیں کھودنے اور راستوں میں کیلیں لگانے جیسے اقدامات کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پہلے ہی بڑے مسائل ہیں لہٰذا ملک میں گولی کے ذریعے امن نہیں آسکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سیاسی رویہ اپناتے ہوئے لانگ مارچ کریں گے۔

