واشنگٹن:کیا کوئی ایسا شخص جو دنیا کو چین، روس اور ایران کے ساتھ ایک ہولناک "تین رُخی جنگ” کی طرف دھکیل رہا ہو، وہی اس جنگ سے سب سے زیادہ منافع کمانے والا بھی ہے؟ یہ وہ سلگتا ہوا سوال ہے جو دفاعی صنعت اور مصنوعی ذہانت (AI) کے اس دور میں پوری دنیا کے امن پسند حلقوں کو جھنجھوڑ رہا ہے۔
فوجی اداروں کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور جاسوسی سافٹ ویئر فروخت کرنے والی معروف امریکی کمپنی ’پیلانٹیر‘ (Palantir) کے چیف ایگزیکٹو الیکس کارپ (Alex Karp) نے حال ہی میں یہ خطرناک دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کو چین، روس اور ایران کے خلاف جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور اس مقصد کے لیے انہوں نے امریکہ میں لازمی فوجی سروس (Pro-draft) اور مکمل خودکار ہتھیاروں (Autonomous Weapons) کی تیز رفتار تیاری کی کھل کر حمایت کی ہے۔
الیکس کارپ کی کمپنی پیلانٹیر نے 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کی وزارتِ دفاع کے ساتھ جنگ سے متعلقہ مشنز کے لیے ایک اسٹریٹجک شراکت داری پر دستخط کیے تھے۔ دوسری طرف، غزہ کے محاذ پر اسرائیلی انٹیلی جنس کے ’لیوینڈر‘ (Lavender) جیسے اے آئی سسٹمز کے استعمال نے دنیا کو حیران کر دیا ہے، جن کے ذریعے ہزاروں اہداف کا تعین کیا گیا اور انسانوں نے ان کی جانچ پڑتال کے لیے صرف چند سیکنڈ لگائے۔
اگرچہ پیلانٹیر نے براہِ راست ’لیوینڈر‘ نامی سسٹم کے پیچھے ہونے کی تردید کی ہے اور اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی کس حد تک استعمال ہو رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیلانٹیر باقاعدگی سے اسرائیل کو فوجی اے آئی ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب کسی کمپنی کا کاروباری ماحولیات اور منافع حکومتوں کی طرف سے جنگوں کو خودکار (Automate) بنانے پر منحصر ہو جائے، تو اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ اس کا مستقبل جنگوں کے فروغ میں ہی مضمر ہے۔ جب الیکس کارپ دنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ روس، چین اور ایران کے ساتھ جنگ "بہت قریب” ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ واقعی مستقبل کے کسی خطرے سے خبردار کر رہے ہیں، یا وہ دراصل ایک ایسے مستقبل کی نقشہ کشی کر رہے ہیں جس کے ٹکٹ فروخت کر کے ان کی اپنی کمپنی اربوں ڈالر کمانے کے لیے تیار بیٹھی ہے؟
جنگ سے منافع کا خطرناک کھیل: ”میناب سے غزہ“ تک ہزاروں قتل کی ذمہ دار اے آئی کمپنی ، دنیا کو جنگ کی طرف دھکیلنے لگی

