لاہور:پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے کے کسانوں کی فلاح و بہبود اور زرعی ترقی کے لیے ایک اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ’سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز فور‘ کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس موقع پر منعقدہ پروقار تقریب میں وزیراعلیٰ نے بٹن دبا کر فیز فور کی ڈیجیٹل قرعہ اندازی (ڈیجیٹل بیلٹنگ) کی، جس کے نتیجے میں اٹک کے رہائشی مسعود خان ولد لال خان کا پہلا ٹریکٹر نکلا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گرین ٹریکٹر پروگرام فیز فائیو کے لیے آن لائن ایپلی کیشن پورٹل کا بھی افتتاح کر دیا ہے۔
تقریب کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پچھلے 20 برسوں کے دوران کسانوں کو کل 10 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے گئے تھے، جبکہ موجودہ حکومت نے محض ڈھائی سال کے قلیل عرصے میں 35 ہزار ٹریکٹرز دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایگریکلچر میکانائزیشن کے لیے گزشتہ دو دہائیوں میں صرف 3 ارب روپے خرچ کیے گئے تھے، جبکہ موجودہ حکومت نے ڈھائی سال میں 20 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ صوبے میں پہلی مرتبہ 90 ہارس پاور کے ٹریکٹرز کی مینوفیکچرنگ اور 100 ہارس پاور ٹریکٹرز کی اسمبلینگ کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
رواں مالی سال کے دوران کسانوں کو دو فیزز میں مجموعی طور پر 19,500 گرین ٹریکٹر فراہم کیے جائیں گے۔ فیز فور میں 50 سے 65 ہارس پاور کے 10 ہزار ٹریکٹرز دیے جائیں گے۔
50 سے 65 ہارس پاور کے ٹریکٹر پر حکومتِ پنجاب کی طرف سے ساڑھے سات لاکھ روپے سبسڈی دی جا رہی ہے، جبکہ فیز فائیو میں 75 سے 125 ہارس پاور کے 9,500 ہائی پاور ٹریکٹرز پر 10 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ اس پورے پروگرام کے لیے 17.6 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
گرین ٹریکٹر پروگرام کے لیے کل 213,637 سے زائد کسانوں نے درخواستیں جمع کروائیں، جن میں سے پی ایل آر اے (PLRA) اور نادرا (NADRA) سے مکمل تصدیق کے بعد 128,757 اہل کاشتکاروں کو قرعہ اندازی میں شامل کیا گیا۔
اسکیم میں بھکر، جھنگ، لودھراغ اور وہاڑی سمیت جنوبی پنجاب کے اضلاع کا تناسب زیادہ رکھا گیا ہے، جبکہ ہر ضلع میں ٹریکٹر کا کوٹہ وہاں کی زرعی اراضی کے تناسب سے مقرر کیا گیا ہے۔ اس اسکیم سے وہ کسان مستفید ہوں گے جن کے پاس کم از کم 5 ایکڑ یا اس سے زیادہ زرعی اراضی کی ملکیت ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے تمام کاشتکاروں کو دلی مبارکباد پیش کی اور اسکیم کے تحت فراہم کیے جانے والے مقامی طور پر تیار کردہ ٹریکٹرز کا معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے مقامی سطح پر تیار شدہ 90 ہارس پاور اور اسمبل شدہ 100 ہارس پاور کے ٹریکٹرز پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تاریخی اسکیم کی بدولت پنجاب میں ٹریکٹر سازی کی صنعت اور زرعی مشینری کی خرید و فروخت میں نمایاں اور ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

