لاہور / اسلام آباد(حافظ نعیم سے ):پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو متوقع لانگ مارچ کے پیش نظر پنجاب حکومت نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے لیے فوج اور رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ پنجاب کے محکمہ داخلہ نے وفاقی حکومت کو باضابطہ خط لکھ کر جڑواں شہروں یعنی راولپنڈی اور اسلام آباد کے مخصوص علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کی درخواست کی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے تحت 27 ستمبر سے راولپنڈی کے حساس اور اہم زونز میں 2 جی، 3 جی اور 4 جی انٹرنیٹ نیٹ ورکس کو جام یا سست کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے، تاکہ مظاہرین کو باہم رابطہ کرنے اور متحرک ہونے سے روکا جا سکے۔
باخبر ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی حکومت کو ایک باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے جس میں صوبے کے اہم اضلاع—راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی—میں رینجرز اور پاک فوج کے دستے تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ خط میں یہ سیکیورٹی فورسز 5 اکتوبر تک تعینات رکھنے کی استدعا کی گئی ہے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور سرکاری و عوامی املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے یہ قدم ممکنہ سیاسی کشیدگی اور امن و عامہ کے خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب میں فوج اور رینجرز طلب، جڑواں شہروں میں موبائل ، انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کا فیصلہ


