تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
گزشتہ کئی گھنٹوں سے یہ خبر گردش میں ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاپتہ ہیں۔ تاحال براہِ راست وفاقی یا پنجاب حکومت پر انہیں گرفتار کرنے یا لاپتہ کرانے کا الزام سامنے نہیں آیا، تاہم صوبائی حکومتی ترجمان اور بعض پارٹی عہدیداروں کی جانب سے وزیراعلیٰ کو مبینہ طور پر لاپتہ کیے جانے کے خلاف بھرپور احتجاج کی کال دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق منتخب عہدیدار اور کارکنان خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحد پر احتجاج کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، سیاسی احتجاج جمہوری حق ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر ایک بار پھر احتجاج، دھرنوں، سڑکوں کی بندش اور محاذ آرائی کا سلسلہ شروع ہوگیا تو اس کا سب سے زیادہ بوجھ کس کے کندھوں پر پڑے گا؟
یقیناً عام آدمی کے کندھوں پر!
ہم سیاسی بحث میں الجھنے کے بجائے صرف اس پہلو پر بات کرنا چاہتے ہیں جس کا تعلق براہِ راست عوام کے چولہے سے ہے۔ خیبر پختونخوا پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ غریب کے لیے آٹا، گھی، دال، سبزی، چینی اور روزمرہ استعمال کی دوسری اشیا خریدنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں اگر احتجاج کے باعث شاہراہیں بند ہوتی ہیں، پنجاب سے آنے والی اشیائے خورونوش کی ترسیل متاثر ہوتی ہے یا بازاروں تک سامان کی رسائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا سیدھا اثر قیمتوں پر پڑے گا۔
مہنگائی صرف بازار میں قیمت بڑھنے کا نام نہیں، یہ اس ماں کی آنکھ کا آنسو ہے جو بچوں کے لیے راشن خریدتے ہوئے اپنی ضرورت کی چیز واپس رکھ دیتی ہے۔ یہ اس مزدور کی پریشانی ہے جس کی دیہاڑی وہی رہتی ہے مگر گھر کے اخراجات ہر روز بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ اس سفید پوش خاندان کی خاموش اذیت ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا مگر مہینے کے آخری دنوں میں گھر کا حساب کتاب کرتے ہوئے پریشان ہو جاتا ہے۔
سیاسی کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان اکثر اسی طبقے کا ہوتا ہے جو سیاست کے فیصلوں میں براہِ راست شریک بھی نہیں ہوتا۔
حکمران احتجاج میں مصروف ہوں، سیاسی کارکن سڑکوں پر ہوں، شاہراہیں بند ہوں، صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوں اور دوسری طرف غریب آدمی بازار میں آٹے اور سبزی کی قیمت پوچھتا پھرے—تو یہ منظر کسی سیاسی کامیابی سے زیادہ ایک عوامی المیہ بن جاتا ہے۔
اختلاف ضرور کیجیے، احتجاج بھی کیجیے، اپنے سیاسی اور آئینی حقوق کے لیے آواز بھی اٹھائیے، مگر یہ ضرور سوچیے کہ احتجاج کا راستہ کہیں عوام کے رزق کا راستہ تو نہیں روک رہا؟
خیبر پختونخوا کو اس وقت محاذ آرائی سے زیادہ استحکام کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اپنا نظام چلانے کی ضرورت ہے، اپوزیشن کو اپنا مؤقف بیان کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور عوام کو سب سے بڑھ کر امن، روزگار اور مناسب قیمت پر اشیائے ضروریہ دستیاب ہونی چاہئیں۔
سیاسی لڑائیاں اقتدار کے ایوانوں میں لڑی جاتی ہیں، مگر ان کے زخم اکثر بازاروں میں نظر آتے ہیں۔
اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر سیاسی جماعت، ہر حکمران اور ہر کارکن احتجاج کا اعلان کرنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے اس غریب کے گھر کی طرف بھی دیکھے جس کے چولہے پر پہلے ہی مہنگائی کی آگ جل رہی ہے۔
وزیراعلیٰ کی موجودگی یا عدم موجودگی ایک سیاسی مسئلہ ہو سکتا ہے، مگر عوام کے چولہے کا بجھ جانا پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔
سیاسی اختلافات آتے جاتے رہیں گے، حکومتیں بنتی اور بدلتی رہیں گی، مگر عوام اگر مسلسل مہنگائی، بے یقینی اور احتجاج کی سڑکوں کے درمیان پستے رہے تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ وزیراعلیٰ کہاں ہیں؟
سوال یہ بھی ہوگا کہ عام آدمی آخر جائے تو جائے کہاں؟


