واشنگٹن:امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز روس اور ایران کے خلاف انتہائی سخت اور وسیع معاشی پابندیوں پر مشتمل ایک اہم قانون کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔ 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور ہونے والا یہ بل پہلے ہی سینیٹ سے منظوری حاصل کر چکا ہے، اور اب اسے حتمی دستخط کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس بھیج دیا گیا ہے، جن کے دستخط کے بعد یہ باضابطہ قانون بن جائے گا۔
معتبر ذرائع کے مطابق، ’لنڈسے گراہم روس اینڈ ایران سینکشنز ایکٹ‘ کے نام سے پیش کیے جانے والے اس قانون کا بنیادی مقصد ماسکو پر معاشی دباؤ کو آخری حد تک بڑھانا اور روس کے ساتھ عسکری و تجارتی تعاون کرنے والے ایرانی اداروں کو بھی اس کے شکنجے میں لانا ہے۔
اس نئے قانون کے تحت روسی حکام، مالیاتی اداروں، بینکوں کے ساتھ ساتھ روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں پر پابندیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
روسی تیل کی برآمدات پر لگی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے خفیہ بحری بیڑے (Shadow Fleet) کو بالخصوص نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر کو یہ خصوصی اختیار حاصل ہوگا کہ وہ روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کر سکیں۔
اس قانون کے ذریعے سن 1996 کے ایران پابندیوں کے ایکٹ کی مدت کو 2026 کے بجائے پانچ سال بڑھا کر 2031 تک کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس شق کے تحت فوری طور پر کسی نئی کمپنی کو بلیک لسٹ نہیں کیا جا رہا، تاہم روس کے ساتھ ہتھیاروں یا دفاعی تعاون میں ملوث کسی بھی ایرانی ادارے کو اب روسی پابندیوں کے فریم ورک کے تحت براہِ راست نشانہ بنایا جا سکے گا۔
سینیٹ نے اگست ہی میں اس بل کو 11 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا، اور اب ایوانِ نمائندگان کی منظوری کے بعد یہ وائٹ ہاؤس پہنچ چکا ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے ماسکو اور تہران دونوں پر عالمی سطح پر معاشی گھیراؤ مزید تنگ ہو جائے گا۔
روس اور ایران پر شکنجہ مزید سخت: امریکی کانگریس میں پابندیوں کا بل منظور ، دستخط کیلئے ٹرمپ کو ارسال

