ہائی بلڈ پریشر (بلند فشارِ خون) اور دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) کے درمیان بہت گہرا اور براہِ راست تعلق ہے۔ طبی ماہرین ہائی بلڈ پریشر کو "خاموش قاتل” (Silent Killer) کہتے ہیں کیونکہ یہ بغیر کسی بڑی علامت کے سالہا سال تک جسم کے اندر دل اور شریانوں کو خاموشی سے نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر درج ذیل مراحل سے گزر کر دل کے دورے کا باعث بنتا ہے:
1. شریانوں کا سخت اور تنگ ہونا (Atherosclerosis) جب خون کا دباؤ مسلسل زیادہ رہتا ہے، تو یہ خون کی نالیوں (شریانوں) کی اندرونی باریک دیواروں کو زخمی کر دیتا ہے۔ ان زخمی نالیوں میں کولیسٹرول، چربی اور دیگر مادے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں جنہیں "پلاک” (Plaque) کہا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ پلاک شریانوں کو سخت اور تنگ کر دیتا ہے، جس سے دل تک خون کی روانگی دشوار ہو جاتی ہے۔
2. کلوٹ (خون کا جمن) اور شریان کا بلاک ہونا جب شریان میں جمع شدہ پلاک ہائی بلڈ پریشر کے شدید دباؤ کی وجہ سے پھٹتا ہے، تو جسم اسے زخم سمجھ کر وہاں خون جمانے (Clot) کی کوشش کرتا ہے۔ یہ خون کا تھکتھا (کلوٹ) پہلے سے تنگ شریان کو مکمل طور پر بند کر دیتا ہے۔ اگر یہ بلاکیج دل کو خون فراہم کرنے والی شریان (Coronary Artery) میں ہو جائے، تو دل کے اس حصے کو آکسیجن ملنا بند ہو جاتی ہے، جسے ہارٹ اٹیک کہا جاتا ہے۔
3. دل کے پٹھوں کا پھیلنا اور کمزور ہونا تنگ شریانوں کی وجہ سے دل کو پورے جسم اور خود اپنے آپ کو خون پہنچانے کے لیے معمول سے زیادہ طاقت لگانی پڑتی ہے۔ مسلسل زیادہ محنت کرنے کی وجہ سے دل کے پٹھے (Cardiac Muscles) موٹے اور سخت ہو جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دل کی یہ ساخت پھیل کر کمزور ہو جاتی ہے، جو نہ صرف ہارٹ اٹیک بلکہ "ہارٹ فیلیئر” (Heart Failure) کا سبب بھی بنتی ہے۔
ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ اور حفاظت کی تدابیر:
-
باقاعدگی سے چیک اپ: اپنے بلڈ پریشر کو باقاعدگی سے ناپیں تاکہ وقت پر اس کی تشخیص ہو سکے۔
-
نمک کا محدود استعمال: کھانے میں نمک کا استعمال کم سے کم کریں۔
-
متوازن غذا: سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چربی والی غذاؤں کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔
-
جسمانی ورزش: روزانہ کم از کم 30 منٹ تیز پیدل چلنا یا ہلکی ورزش دل کو مضبوط رکھتی ہے۔
-
وزن اور تناؤ پر قابو: وزن کو کنٹرول میں رکھیں اور ذہنی تناؤ (Stress) سے بچنے کی کوشش کریں۔
-
ادویات کی پابندی: اگر ڈاکٹر نے بلڈ پریشر کی ادویات تجویز کی ہیں تو انہیں باقاعدگی سے لیں۔

