مسقط / واشنگٹن:بحرِ احمر اور آبنائے باب المندب کے اسٹریٹجک خطے میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایک بڑی اور غیر متوقع سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ امریکی سفارت کاروں نے سلطنتِ عمان کے دارالحکومت مسقط میں یمن کے حوثی نمائندوں کے ساتھ ایک اہم اور غیر اعلانیہ ملاقات کی ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حالیہ دنوں میں حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پسپا کر دیا ہے۔
معتبر امریکی جریدے ‘ایگزیوس’ اور خبر رساں ادارے کی رپورٹس کے مطابق، یہ خفیہ ملاقات گزشتہ ہفتے کے آخر میں مسقط میں واقع امریکی سفارت خانے میں منعقد ہوئی، جس میں عمانی حکومت نے ثالث اور میزبان کا بنیادی کردار ادا کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اعلیٰ سطحی رابطے کا بنیادی ہدف خطے میں جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ ‘آبنائے باب المندب’ کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ حالیہ دنوں میں اس آبنائے پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے کنٹرول نے مشرق وسطیٰ کی جنگی مساوات کو بالکل نئے مرحلے پر پہنچا دیا ہے۔ واشنگٹن اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ باب المندب میں جہاز رانی کے مسائل کو توانائی کی عالمی منڈی کے کسی بڑے بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جائے، جبکہ امریکہ اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ براہِ راست مشترکہ فوجی کارروائیوں سے گریز کی حکمت عملی پر بھی کاربند ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرنے والے پانچ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملاقات کے دوران حوثی نمائندوں نے امریکی حکام کو واضح یقین دہانی کرائی ہے کہ فی الحال ان کا امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور وہ سن 2025 میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل طور پر قائم ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، حوثیوں کی یہ پیشقدمی اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات خطے میں ایک نئے توازن کی عکاسی کرتے ہیں۔
امریکا کی عمان میں حوثی نمائندوں سے خفیہ ملاقات،جنگ بندی قائم، آپکو کوئی خطرہ نہیں ،حوثیوں کی یقین دہانی

