تحریر :محمد اشفاق
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اچانک ایک نیا اور سنسنی خیز موڑ اس وقت سامنے آیا جب ایران اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے اچانک بند ہو گئے اور محاذ پر پراسرار خاموشی چھا گئی۔
تاہم، ایک تعجب انگیز صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اصلی حریف پر حملے روک کر خلیجی اور مسلم ممالک بشمول سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین اور دبئی کو نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں، سفارتی تعلقات اور ظاہری اختلافات کے باوجود دبئی پر بھی حملے روک دیے گئے۔
اسی اثنا میں، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب پر ’ابراہیمی معاہدے‘ (Abraham Accords) میں شمولیت اور ایران کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے کا شدید دباؤ ڈالا گیا، مگر سعودی حکومت نے ان تمام مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا۔ اپنے اوپر ہونے والے حملوں کے باوجود، سعودی عرب نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور مسلم امہ کو آپس میں لڑانے کی اسلام دشمن سازشوں کے خلاف مسلسل متنبہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، دوسری جانب یمن میں سرگرم مسلح تنظیم کو متحرک کر کے باب المندب کی شاہراہ کو بلاک کرنا اور سعودی عرب کے خلاف محاذ کھولنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جو ملک بھی عالمی اسٹیبلشمنٹ، ابراہیمی معاہدے یا امریکی ایجنڈے کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گا، اسے اپنے زیرِ اثر گروہوں کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا۔
پاکستان میں بھی کچھ عناصر اس حوالے سے برادر ملک سعودی عرب کے خلاف گمراہ کن معلومات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پاکستانی قوم تاریخ سے باخبر ہے۔ وہ جانتی ہے کہ عراق میں صدام حسین کے ساتھ کیا ہوا، شام میں عوام پر کیا گزری اور لبنان کو کس طرح جنگ کی آگ میں دھکیلا گیا۔
پاکستان کے عوام اپنے ریاستی اداروں اور افواج کے ساتھ مل کر سعودی عرب کے تحفظ اور دفاعی معاہدو ں کی پاسداری کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور کسی بھی عالمی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔


