واشنگٹن / نیویارک:امریکہ اور ایران کے مابین جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے ایک بڑی سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کی ہنگامی ملاقات کریں گے۔
معتبر امریکی ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کو باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اس ملاقات کا بنیادی مقصد ایران کے ساتھ جنگ کے بعد کی صورتحال (Postwar Strategy) اور ‘آنے والے کل کے پلان’ پر غور کرنا ہے، جسے ٹرمپ اور ان کی سینئر ٹیم رواں سال کے وسط مدتی انتخابات کے فورا بعد حتمی شکل دینے پر کام کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ وہ خلیجی ممالک جو اپنے ہاں امریکی فوجی اڈے میزبان کرتے ہیں، اس جنگ کے دوران ایرانی حملوں کی زد میں رہے ہیں، جبکہ تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات میں تعطل کی وجہ سے انہیں معاشی طور پر بھی کروڑوں ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس پس منظر میں یہ ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ "امید ہے کہ ہم اس جنگ کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔” انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکہ کو یہ پیغام براہِ راست موصول ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ نے بدھ کے روز ابتدائی دعوت نامے ارسال کر دیے ہیں۔ اس اجلاس میں خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک—سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان—کے سربراہان یا وزرائے خارجہ کے شرکت کرنے کا امکان ہے۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کا دائرہ کار بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ اس میں دیگر عرب اور مسلم رہنما بھی شامل ہو سکیں۔
دوسری جانب اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بھی نیویارک میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں، تاہم اب تک دونوں رہنماؤں کے درمیان کسی ملاقات کا باضابطہ شیڈول طے نہیں پایا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اس اجلاس کو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کی طرف ایک فیصلہ کن موڑ قرار دے رہے ہیں۔
اہم سفارتی پیشرفت: صدر ٹرمپ نیویارک میں خلیجی رہنماؤں سے اہم ہنگامی ملاقات کب کر رہے ہیں؟

