پیرس:فرانسیسی دارالحکومت پیرس کی ایک عدالت نے سن 2016 میں پیش آنے والے ہولناک مسلح ڈکیتی کے مقدمے میں مشہور امریکی ریئلٹی سٹار کم کارڈیشین (Kim Kardashian) کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے انہیں علامتی طور پر صرف ایک یورو معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے—وہی رقم جو خود کم کارڈیشین نے عدالت سے طلب کی تھی۔
غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق، کم کارڈیشین نے اس واقعے کو اپنی زندگی کا "سب سے خوفناک ترین تجربہ” قرار دیا تھا۔ گزشتہ برس عدالت نے اس ہائی پروفائل ڈکیتی میں ملوث آٹھ افراد کو مجرم قرار دیا تھا۔
منگل کے روز اسٹائلسٹ سیمون ہاروچ کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کم کارڈیشین نے فرانسیسی عدلیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ فیصلہ مالی معاوضے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد "جوابدہی اور قانون کا اعتراف” ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ "یہ تجربہ انتہائی صدمہ پہنچانے والا تھا اور اس کے اثرات آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ آج کا فیصلہ پیسے کا نہیں بلکہ انصاف کا حصول ہے۔”
عدالت نے اس واقعے سے شدید ذہنی صدمے کا شکار ہونے والے ہوٹل (Hôtel de Pourtalès) کے ایک سابق ریسپشنسٹ کو ایک لاکھ نو ہزار یورو (109,516 €) دینے کا حکم دیا ہے، جبکہ اسی ہوٹل کو ہرجانے کے طور پر 50 ہزار یورو دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حادثے کے وقت کم کارڈیشین کے ساتھ موجود ان کی اسٹائلسٹ سیمون ہاروچ کو بھی ان کی اپنی خواہش پر ایک یورو ہی دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 2 اکتوبر 2016 کو پیرس کے پرتعیش ہوٹل میں پیش آنے والے اس ڈکیتی کے واقعے میں پولیس کے بھیس میں دو مسلح ڈاکو زبردستی کم کارڈیشین کے کمرے میں گھس آئے تھے۔ انہوں نے عالمی شہرت یافتہ اسٹار کو زپ ٹائیز اور ٹیپ سے باتھ روم میں باندھ کر قید کیا اور وہاں سے 6 ملین ڈالر (زائد از 60 لاکھ ڈالر) سے زیادہ مالیت کے قیمتی زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے تھے، جن میں وہ مشہور ہیرے کی انگوٹھی بھی شامل تھی جو انہوں نے اس رات ایک شو کے دوران پہنی تھی۔ اس گروہ کے افراد زیادہ عمر کے ہونے کی وجہ سے فرانسیسی میڈیا میں "گرینڈپا رابرز” (Grandpa Robbers) کے نام سے مشہور ہوئے تھے۔
پیرس "گرینڈپا رابرز”ڈکیتی کیس: کم کارڈیشین کیلئے صرف ‘ایک یورو’ ہرجانہ

