سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا کے اہل خانہ کی جے آئی ٹی کی تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ میر رضا کو قتل کیا گیا ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی خودکشی کے امکان کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عدالت میں سماعت کے دوران جج نے تفتیشی افسر سراج لاشاری سے سوال کیا کہ آپ کی رائے میں یہ واقعہ کیا ہے؟ جس پر تفتیشی افسر نے واضح طور پر بیان دیا کہ ہم کلیئر ہیں کہ قتل ہوا ہے۔
تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی ٹیم نے اس کیس کی تحقیقات زیرو سے شروع کیں اور مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے گئے۔ ان کے مطابق کیس میں زیادہ تر شواہد ڈیجیٹل طور پر حاصل ہوئے ہیں، جن کا جائزہ تفتیش کا اہم حصہ ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جائے وقوعہ سے ایک خول بھی ملا ہے تاہم تفتیشی ٹیم کو تاحال پستول نہیں مل سکا۔ تفتیشی افسر کے مطابق اسلحے سے متعلق شواہد بھی کیس کی تفتیش میں اہمیت رکھتے ہیں اور اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ کیس کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک رپورٹ ابھی موصول ہونا باقی ہیں۔ ان رپورٹس کے آنے کے بعد تفتیش میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر سراج لاشاری نے یہ بھی کہا کہ تفتیشی ٹیم جبران ناصر کو نہیں بلکہ اپنی ڈیوٹی کو جواب دہ ہے۔ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ کیس کی تحقیقات دستیاب شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب عدالت نے تفتیشی عمل اور دستیاب شواہد سے متعلق تفصیلات بھی دریافت کیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق اب تک سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں ٹیم اس مؤقف پر قائم ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی نہیں بلکہ قتل کا واقعہ ہے۔
تاہم کیس میں حتمی فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس ابھی آنا باقی ہیں، جن کے بعد موت کی وجوہات اور واقعے کے دیگر پہلوؤں سے متعلق تفتیش مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
میر رضا کی موت خودکشی نہیں ، قتل ہے، سندھ پولیس JIT تشکیل دینے پر فیصلہ محفوظ

