ماسکو:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے حال ہی میں ملک کی تاریخی آٹوموٹو شناخت رکھنے والے برانڈ ’وولگا‘ کی نئی پیشکش ’وولگا K50‘ (Volga K50) کی خود ٹیسٹ ڈرائیو کی ہے اور اس کی کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
روسی صدر نے گاڑی کے اسٹیئرنگ اور ہینڈلنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ "انتہائی آرام دہ ہے اور اسے تقریباً ایک انگلی سے بھی با آسانی چلایا جا سکتا ہے۔”
Putin takes the new Volga car out for a ride
Gives it his personal signature as a bonus pic.twitter.com/7ea4cgFmSY
— RTRussia (@RT_Russia_) August 28, 2026
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نئی کار چینی آٹوموٹو ٹیکنالوجی اور پارٹس کی مدد سے تیار کی گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی پابندیوں کے نفاذ کے بعد روسی صنعت کس طرح چینی شراکت داری کے ساتھ اپنی آٹوموٹو مارکیٹ کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔ وولگا برانڈ، جو سوویت دور میں روس کی شان سمجھا جاتا تھا، اب ایک نئے روپ میں واپس آیا ہے تاکہ ملکی سطح پر درآمدی گاڑیوں کا نعم البدل فراہم کیا جا سکے۔
سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیوٹن کی جانب سے اس گاڑی کا خود ٹیسٹ ڈرائیو کرنا اور اس کی تعریف کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ماسکو حکومت چینی آٹوموٹو کمپنیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تکنیکی تعاون کو کتنی اہمیت دے رہی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ نئی ماڈل گاڑی جلد ہی روسی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر متعارف کروائی جائے گی، جو صارفین کے لیے ایک پرکشش اور جدید متبادل ثابت ہوگی۔

