امریکی فضائیہ کا بوئنگ سی 17 گلوب ماسٹر طیارہ براہ راست ریگا سے ماسکو کے ونوکووو ایئرپورٹ پر اتر گیا، فلائٹ ٹریکنگ سروسز کی تصدیق
واشنگٹن / ماسکو:بین الاقوامی سفارتی اور دفاعی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب منگل کے روز ایک امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ روس کے دارالحکومت ماسکو کے ونوکووو ایئرپورٹ پر اتر گیا۔ فلائٹ ٹریکنگ سروس ’فلائٹ ریڈار 24‘ (Flightradar24) کے جاری کردہ ڈیٹا سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ ایک بڑا بوئنگ سی 17 گلوب ماسٹر (Boeing C-17 Globemaster) طیارہ تھا، جس کا امریکی رجسٹریشن ٹیل نمبر 07-7181 ہے اور یہ براہ راست لٹویا کے دارالحکومت ریگا سے پرواز کر کے صبح نو بجے ماسکو پہنچا۔
CBS Report: CIA Director John Ratcliffe landed in Moscow today for meetings, arriving aboard a US Air Force C-17.
The Kremlin said it had "no information” about the trip. His agenda and who he met remain unknown. https://t.co/Jie6XjEVZU
— Open Source Intel (@Osint613) August 25, 2026
بعد ازاں، سی بی ایس نیوز (CBS News) کی رپورٹر جبوفرجیکبز نے دعویٰ کیا کہ اس طیارے کے ذریعے سی آئی اے (CIA) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ماسکو کا سفر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ غیر مصدقہ ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں طیارے کو ایئرپورٹ کے قریب ایک روسی قصبے پر پرواز کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم، غیر ملکی خبر رساں ادارے نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس پرواز میں کتنا کارگو یا کون سے مسافر سوار تھے۔ دوسری جانب کریملن نے اس طیارے کی آمد کے حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
An unusual visitor to Moscow this morning. 👀
A US Air Force C-17A Globemaster III flew from Riga to Moscow Vnukovo Airporthttps://t.co/D7vylYesDQ pic.twitter.com/jXbOSj0LXM
— Flightradar24 (@flightradar24) August 25, 2026
فلائٹ ڈیٹا کے مطابق یہ طیارہ 23 اگست کو واشنگٹن کے قریب کیمپ سپرنگز ایئربیس سے ریگا پہنچا تھا۔ جنوری کے اس واقعے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی طیارے نے براہ راست روس کا رخ کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جنوری میں بھی ایک امریکی طیارہ خصوصی ایلچیوں اسٹیفن وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو لے کر روس آیا تھا جنہوں نے یوکرین کے معاملے پر صدر ولادیمیر پوتن سے امن مذاکرات کیے تھے۔
اگرچہ کریملن نے گزشتہ ہفتے کشنر اور وٹکوف کے کسی نئے دورے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا کیونکہ امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین کے معاملے پر مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں، تاہم سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی اس اچانک آمد نے عالمی میڈیا اور سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔

