لاہور:جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکمران اتحاد اور پنجاب حکومت پر شدید تنقید کے تیر برسائے ہیں۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو واضح چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے اور اس نے کوئی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے تو وہ خود دھرنے کے مقام پر آئے، کیونکہ وہ بریفنگ لینے ہرگز اسلام آباد نہیں جائیں گے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حکمران آئیں اور بتائیں کہ عوام کو پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور مہنگائی سے ریلیف کب تک دیا جائے گا۔
حکمران رہنما رانا ثنا اللہ کے بیان کا جواب دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اصل میں دھرنے یا جماعت اسلامی کی تحریک ناکام نہیں ہوئی، بلکہ عوام نے خود ان حکمرانوں کو مسترد کر رکھا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں صرف چند نمائشی اقدامات کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بہت کام ہو رہا ہے، جبکہ حقیقت میں یہاں ایک ہی خاندان کی اجارہ داری قائم ہے۔
تعلیمی نظام کا ذکر کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے انکشاف کیا کہ حکومت نے سرکاری اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنا شروع کر دیا ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت غریب بچوں کو پڑھانے کی بنیادی ذمہ داری سے جان چھڑوا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی زراعت کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے، اور عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اپنے حق میں اشتہارات چلائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کو پہلے ہی پیپلز پارٹی نے تباہ کر دیا ہے، اور کئی سال گزر جانے کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر جمہوریت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ انہوں نے میڈیا مالکان پر بھی زور دیا کہ وہ چند مخصوص خاندانوں کی بجائے عام عوام کی حقیقی نمائندگی کریں۔
ملکی دیگر اہم امور پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ سرحد یونیورسٹی کا معاملہ بھی آئین اور قانون کے مطابق ہی چلنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک میں کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر معاملے میں میرٹ پر شفاف تحقیقات کے بعد ہی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔
حکمران ہوش کے ناخن لیں ورنہ دھرنا ختم نہیں ہوگا: حافظ نعیم الرحمن

