واشنگٹن ڈی سی :امریکہ نے وزٹ ویزا حاصل کرنے والے بعض غیر ملکی شہریوں کے لیے 20 ہزار ڈالر (تقریباً 55 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) تک کی ضمانتی رقم جمع کرانے کی شرط کو اب مستقل بنیادوں پر نافذ کر دیا ہے۔ تاہم، پاکستانی شہریوں کے لیے ایک بڑی اور سکھ کا سانس دینے والی خبر یہ ہے کہ پاکستان ان 50 ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے جن پر اس سخت قانون کا اطلاق ہو گا۔
امریکی فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے والی فہرست کے مطابق یکم اگست سے نافذ العمل ہونے والے اس پروگرام میں جنوبی ایشیا سے صرف بنگلہ دیش اور نیپال شامل ہیں، جبکہ پاکستان اور بھارت دونوں اس فہرست سے باہر ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان اور ایران کو بھی معمول کے سفارتی تعلقات نہ ہونے کی بنا پر اس عمل سے الگ رکھا گیا ہے۔ پاکستانی سفارتی ذرائع نے بھی اس بات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ پاکستان اس دائرہ کار میں نہیں آتا۔
یہ نیا قانون بزنس (B1) اور سیاحتی (B2) ویزوں کے لیے درخواست دینے والے ان افراد پر لاگو ہوگا جو اس فہرست میں شامل 50 ممالک (جن میں افریقہ کے 30 ممالک کے علاوہ ایشیا، کیریبین اور بحرالکاہل کے خطے کے دیگر ممالک شامل ہیں) سے تعلق رکھتے ہیں۔ قونصلر افسران کیس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے مسافروں کو 10 ہزار سے 20 ہزار ڈالر تک کا قابلِ واپسی بانڈ جمع کرانے کا حکم دے سکتے ہیں۔
اگر ویزا حاصل کرنے والا مسافر مقررہ قوانین کی مکمل پاسداری کرتا ہے اور طے شدہ مدت کے اندر امریکہ سے واپس اپنے وطن لوٹ جاتا ہے، تو یہ ضمانتی رقم اسے مکمل طور پر واپس کر دی جائے گی۔ البتہ، ویزے کی مدت سے زائد قیام (اوور اسٹے) یا کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی صورت میں یہ بھاری رقم ضبط کر لی جائے گی۔
امریکا کا وزٹ ویزا حاصل کرنے پر 20 ہزار ڈالر کا بانڈ لازمی: کیا پاکستان اس نئی پابندی سے بچ گیا؟ جانیے اہم تفصیلات!

