واشنگٹن:اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار بالمشافہ ملاقات کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے 2025 کے اوائل میں دوبارہ صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ مجموعی طور پر آٹھویں ملاقات تھی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد ایران کے تنازعے کے حوالے سے سامنے آنے والے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کرنا تھا۔ واضح رہے کہ بنیامین نیتن یاہو نے حال ہی میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ خطے میں اسرائیلی اور امریکی مفادات میں فرق کی وجہ سے ان کے اور صدر ٹرمپ کے درمیان کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔ رواں برس جون میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک تلخ ٹیلی فونک گفتگو بھی میڈیا میں لیک ہوئی تھی، جس کی تصدیق خود صدر ٹرمپ نے بھی کی تھی اور اس واقعے نے دونوں اتحادیوں کے درمیان تناؤ کو واضح کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ لڑائی میں حصہ نہیں لیا، جو اپریل کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد رواں ماہ دوبارہ شدت اختیار کر گئی تھی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں برس اکتوبر کے آخر میں اسرائیل میں قومی انتخابات جبکہ نومبر کے شروع میں امریکا میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یہ ملاقات ان کی امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی بہترین ملاقاتوں میں سے ایک تھی۔ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات مکمل شراکت داری، باہمی تعاون اور اس مشترکہ مقصد پر اتفاق کے ساتھ ہوئی کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ نیتن یاہو کے مطابق وائٹ ہاؤس میں قریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں میڈیا کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اس ملاقات میں صدر ٹرمپ کی پوری اعلیٰ ٹیم اور اعلیٰ اسرائیلی قیادت بھی موجود تھی، جو اسرائیل کی سلامتی اور مستقبل کے اہم معاملات پر تبادلہ خیال اور باہمی ہم آہنگی کا بہترین موقع ثابت ہوئی۔
ملاقات کے اختتام پر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں بتایا کہ صدر ٹرمپ نے بنیامین نیتن یاہو اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقاتیں کی ہیں، اور یہ دونوں ملاقاتیں نہایت مثبت اور نتیجہ خیز رہی ہیں۔

