کوئٹہ :کوئٹہ کے قریب ایک کوئلہ کان میں گیس کے دھماکے کے باعث پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں کم از کم 11 کان کن ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 25 کان کن اب بھی ہزاروں فٹ کی گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ جمعرات کو کوئٹہ سے تقریباً 35 کلومیٹر مشرق میں واقع ’شیخ عزیز لیز کول مائن‘ میں پیش آیا۔
چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان محمد عاطف کے مطابق کان میں میتھین گیس بھر جانے سے زور دار دھماکہ ہوا اور کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا۔ دھماکے کے وقت وہاں 36 مزدور کام کر رہے تھے۔
کول مائنز لیبر یونین کے صدر بخت نواب نے اردو نیوز کو بتایا کہ دھماکہ تقریبا تین ہزار فٹ کی گہرائی میں ہوا لیکن یہ اتنا شدید تھا کہ اس کے اثرات سطح زمین تک محسوس کیے گئے۔ زمین کے اوپر موجود دو کان کن بھی اس کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد کان میں آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے جھلسنے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 11 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں.ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود آپریشن مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں، کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے، امدادی سرگرمیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ حادثے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔
کوئٹہ کے قریب کوئلہ کان میں گیس دھماکہ، 11 کان کن ہلاک، 25 مزدور محصور، زندگی کی امیدیں دم توڑنے لگیں

