اسلام آباد :اسلام آباد میں ایک بزنس کنونشن سے خطاب اور صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے موجودہ نظام، نوجوانوں کے حقوق، انتظامی اصلاحات اور سیاسی صورتحال پر انتہائی اہم اور دوٹوک گفتگو کی ہے۔
’’ملک کا موجودہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے، 10 سال بعد بھی یہی مسائل بتا رہے ہوں گے، جمہوریت میں بھی تین چار قسم کے نظام ہین، لیکن بضد ہیں ایک ہی نظام گھسیٹنا ہے‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی کی اہم تقریر pic.twitter.com/wEdb6ypaV0
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) July 30, 2026
محسن نقوی نے کہا کہ نوجوانوں کو چند ہزار روپے کے وظیفے یا ٹیبلٹس دینے سے نظام ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ وہ صرف میرٹ، انصاف اور جائز طریقے سے ملازمت چاہتے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں تنبیہ کی کہ "آپ ان کو نوجوان کہیں، کاکروچ کہیں یا جو مرضی چیز کہیں، اگر یہ کاکروچ اکٹھا ہو گیا تو یہ ہر چیز کو اُلٹ سکتا ہے۔”
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف چاہے 18 گھنٹے بھی کام کر لیں وہ صرف ‘فائر فائٹنگ’ ہی کر رہے ہیں۔ موجودہ نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور جب تک بنیادیں اور نظام ‘ری سیٹ’ نہیں کیا جاتا، دس سال بعد بھی یہی باتیں ہو رہی ہوں گی۔
انہوں نے زور دیا کہ مسائل کے حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس اور صوبے بنانا ہوں گے اور انتظامی یونٹس کو عوام کی نچلی سطح تک لے کر جانا پڑے گا۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں، لیکن جمہوریت میں بھی کئی نظام ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام کو بہتر بنانے کے لیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کو بھی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہوگا کیونکہ اب اس کے بغیر گزارہ نہیں۔
صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بار بار کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور وہ خود وفاقی وزیر داخلہ ہی رہیں گے۔

