لاہور(بے نقاب تحقیقاتی رپورٹ )اٹک اور گردونواح میں خوف کی علامت سمجھے جانے والے کوبرا گینگ کے سربراہ زرغام اللہ کے خلاف سی سی ڈی پنجاب کا آپریشن محض ایک پولیس مقابلہ نہیں بلکہ کئی ماہ پر محیط خفیہ انٹیلی جنس، جدید سرویلنس، حکمت عملی اور انتہائی حساس منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ اس کارروائی نے جہاں ایک خطرناک گینگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی، وہیں مقامی پولیس کے کردار پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ نے اس کیس کو ذاتی نگرانی میں رکھا اور ہر مرحلے کی خود مانیٹرنگ کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہی نگرانی اس پورے آپریشن کی کامیابی کا بنیادی سبب بنی۔
اغوا کا واقعہ، جس نے پورا کیس بدل دیا
ذرائع کے مطابق زرغام اللہ اپنے والد کے قریبی دوست کی بیٹی کو پسند کرتا تھا، تاہم لڑکی کی منگنی اپنے کزن سے ہونے پر اس نے مبینہ طور پر اٹک سٹی سے لڑکی کو اغوا کر لیا۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس واقعے کے باوجود مقامی پولیس نے اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کرنے کے بجائے مقدمہ ورغلا کر لے جانے کی دفعات کے تحت درج کیا، حالانکہ مغویہ کے اہل خانہ سے مبینہ طور پر پانچ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اگر ابتدا ہی میں مقدمہ اغوا برائے تاوان کے تحت درج کیا جاتا تو معاملہ فوری طور پر سی سی ڈی کے دائرہ کار میں آ جاتا۔ سہیل ظفر چھٹہ کی مداخلت، تحقیقات کا رخ بدل گیا ۔ ذرائع کے مطابق جب سی سی ڈی سربراہ سہیل ظفر چھٹہ کو واقعے کی مکمل معلومات ملیں تو انہوں نے کیس کو اغوا برائے تاوان کے تناظر میں آگے بڑھانے کی ہدایت دی اور ریجنل افسر سی سی ڈی کو خصوصی ٹاسک سونپا۔ ذرائع کے مطابق ملزم انتہائی احتیاط سے موبائل فون پر صرف ڈیٹا نیٹ ورک استعمال کرتا تھا تاکہ روایتی کال ٹریسنگ سے بچ سکے، تاہم جدید تکنیکی نگرانی، انٹیلی جنس اور مسلسل سرویلنس کے ذریعے اس کی نقل و حرکت کا سراغ لگا لیا گیا۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق زرغام اللہ نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے ہری پور میں ایک رکشہ ڈرائیور کے ذریعے مکان حاصل کیا، جبکہ مکان اپنی بہن کے نام پر کرائے پر لیا گیا۔ وہ اپنے والد خالد، والدہ، اہلیہ اور پانچ کمسن بچوں کے ساتھ اسی گھر میں رہائش پذیر تھا، جبکہ مغویہ کو مبینہ طور پر ایک دوسرے گھر میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔
مقامی پولیس کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟
ذرائع کے مطابق سی سی ڈی نے آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں اٹک پولیس اور مقامی ایلیٹ فورس کو مکمل طور پر شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کی وجہ حساس معلومات کے ممکنہ افشا ہونے کے خدشات تھے، جس کے باعث راولپنڈی سے ایلیٹ فورس اور سی سی ڈی کی خصوصی ٹیمیں طلب کی گئیں تاکہ آپریشن مکمل رازداری میں انجام دیا جا سکے ۔ذرائع کے مطابق جیسے ہی ٹیم نے گھر کا محاصرہ کیا، زرغام اللہ اور اس کے والد خالد نے شدید فائرنگ شروع کر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ زرغام دو کمروں کے اوپر بنی بالکونی میں مضبوط مورچہ بنا چکا تھا جہاں سے وہ مرکزی دروازے اور دونوں کمروں کے درمیان مخفوظ رابطہ پل سے فائرنگ کر رہا تھا۔ اس دوران ایک ڈی ایس پی اور ایک انسپکٹر بال بال بچے جبکہ ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ جبکہ ہری پور کا ایس ایچ او سر کے بالوں پر گولی لگنے سے معمولی زخمی ہوا
خواتین اور بچوں کی جان بچانے کے لیے آپریشن کی حکمت عملی تبدیل
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران جب سی سی ڈی کو یقین ہوا کہ گھر کے اندر ملزم کی والدہ، اہلیہ اور پانچ کمسن بچے موجود ہیں تو فوری طور پر حکمت عملی تبدیل کی گئی۔ بکتر بند گاڑی طلب کی گئی، حفاظتی حصار قائم کیا گیا اور شدید فائرنگ کے باوجود خواتین اور بچوں کو بحفاظت باہر نکالا گیا تاکہ کسی بے گناہ کو نقصان نہ پہنچے۔ ذرائع کے مطابق شہریوں اور اہل خانہ کی جانوں کا تحفظ اس آپریشن کی اولین ترجیح رہا۔ خواتین اور بچوں کے محفوظ انخلا کے بعد فورس نے دوبارہ پیش قدمی کی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد زرغام اللہ اور اس کا والد خالد مارے گئے اور آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا۔ بعدازاں رکشہ ڈرائیور کے گھر سے مغویہ کو بازیاب کر کے زرغام کے سہولت کار رکشہ ڈرائیور کو بھی حراست میں لیکر تفتیش کی جا رہی ہے تحقیقاتی ذرائع کے مطابق آپریشن کے بعد کوبرا گینگ کے مبینہ سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے الگ تحقیقات شروع کی گئیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مختلف افراد کے کردار، معلومات کے مبینہ تبادلے، خفیہ رپورٹس کی ترسیل اور دیگر روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
سہیل ظفر چھٹہ کا کردار
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس پورے آپریشن میں سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق انہی کی ہدایات پر جدید سرویلنس، خفیہ معلومات کے حصول، آپریشنل پلاننگ، ٹیموں کی تشکیل اور شہریوں خصوصاً خواتین اور کمسن بچوں کی جانوں کے تحفظ کو مقدم رکھا گیا، جس کے نتیجے میں ایک انتہائی حساس آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا۔ یہ آپریشن اگرچہ کامیاب رہا، تاہم کئی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔ اغوا کے مقدمے کی ابتدائی نوعیت کیوں تبدیل کی گئی؟ مقامی سطح پر معلومات کے افشا ہونے کے خدشات کیوں پیدا ہوئے؟ اور کیا مبینہ سہولت کاروں کے کردار کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچیں گی؟ ان سوالات کے جوابات اور زرغام کے سرکاری و نجی سہولت کاروں اور اسکے موبائل فرانزک رہورٹ آنے کے بعد حقائق کو آئندہ تحقیقاتی رپورٹ میں آگاہ کیا جائیگا


