لندن/نیویارک:مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی لائن متاثر ہونے کا خوف ہے۔ سرمایہ کاروں کو شدید خدشہ ہے کہ اگر یہ تنازع مزید بڑھا تو عالمی توانائی کی منڈی میں بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، برینٹ (Brent) خام تیل کی قیمت 1.46 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.11 ڈالر مہنگا ہو کر 80.40 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ منگل کے روز بھی ان قیمتوں میں 2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا تھا، جس کے بعد یہ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے دنیا بھر کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا فوجی کارروائی براہِ راست عالمی منڈی میں قیمتوں کو اوپر لے جانے کا باعث بن رہی ہے۔
توانائی کے امور کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر خلیجی خطے میں کشیدگی برقرار رہتی ہے اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا، تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کر سکتی ہیں۔ تاہم، اگر سفارتی سطح پر کوئی بریک تھرو ہوتا ہے اور آبنائے ہرمز میں معمول کے مطابق تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت بحال ہوتی ہے، تو برینٹ خام تیل کی قیمتیں دوبارہ 75 سے 80 ڈالر فی بیرل کی حدود میں واپس آ سکتی ہیں۔
عالمی منڈی میں ہلچل: خام تیل ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

