واشنگٹن ڈی سی :صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے بہتر ہے کہ ایران معاہدے کرلے تہیں تو اگلے ہفتے تمام بجلی گھر اور پل تباہ کردیں گے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم آج رات بھی انہیں سخت نشانہ بنائیں گے، کل رات بھی سخت حملے کریں گے، اور پھر اگلے ہفتے ان کے لیے حالات بہت خراب ہو جائیں گے کیونکہ اگلے ہفتے بجلی گھر اور اس کے بعد پل ہمارے اہداف ہوں گے۔ ہم ان کے تمام بجلی گھر اور پل تباہ کر دیں گے، اگر وہ مذاکرات کی میز پر نہ آئے۔‘
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’امریکی مذاکرات کاروں نے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو پیغام دیا ہے کہ بہتر ہے کہ وہ معاہدہ کر لیں۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد فیس کی جگہ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اپنی اعلیٰ قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ہنگامی اجلاس کے بعد، ٹرمپ نے واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں کارروائیوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہو جائے گا۔
سچویشن روم میں اہم مشاورتی اجلاس:
منگل کو منعقدہ اجلاس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ، چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین اور سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔ ذرائع کے مطابق، اجلاس میں آبنائے ہرمز کے علاوہ ایران کے اندر اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کے نئے اور تباہ کن منصوبوں پر غور کیا گیا۔

