Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پنجاب میں خفیہ فلم بندی، تصاویر بنانے پر سزائیں ہوں گی، سائبر جرائم ڈیجیٹل بلیک میلنگ کے خلاف قانون تیار!

      زیورخ میں خود کار ٹیکسیوں (Robotaxis) کا آغاز؛ سوئٹزر لینڈ بلا ڈرائیور ٹیکسی سروس والایورپ کا دوسرا ملک

      افغانستان کے پہلے خلاباز عبدالاحد مہمند کا 67 برس کی عمر میں انتقال

      بڑی خوشخبری ،آئی فون سمیت تمام امپورٹڈ موبائل فون سستے ہوگئے

      ایپل کا نیا ’آئی فون 18 پرو‘؛ کیا کیا شاندار اے آئی فیچرز اور خصوصیات ہیں ، جانئے!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    نسخے کو متنازع بنا کر ڈاکٹر کے اختیار کو کمزور نہ کریں

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریرڈاکٹرمحمددائود

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پاکستان کا نظامِ صحت پہلے ہی ہسپتالوں میں رش، بڑھتے ہوئے اخراجات، محدود وسائل اور کمزور ریگولیٹری نظام جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ان تمام مشکلات کے ساتھ ایک اور خاموش بحران بھی جنم لے رہا ہے، اور وہ ہے معالج کے تشخیص اور نسخہ تجویز کرنے کے اختیار کا بتدریج کمزور ہونا۔ یہ رجحان آہستہ آہستہ مگر مسلسل محفوظ طبی عمل کی بنیادوں کو متاثر کر رہا ہے۔
    آج بظاہر ہر شخص ڈاکٹر کے نسخے پر سوال اٹھانے لگا ہے۔ سوشل میڈیا پر تبصرے کیے جاتے ہیں، ٹی وی اینکرز اس پر رائے دیتے ہیں، بیوروکریسی مداخلت کرتی ہے، منتخب نمائندے اظہارِ خیال کرتے ہیں، اور فارمیسی برادری کے بعض حلقے بھی اپنے پیشہ ورانہ دائرۂ کار کو معالج کے اختیارات تک پھیلانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے مریض بھی الجھن کا شکار ہوتے ہیں اور نظامِ صحت بھی۔
    طب کا بنیادی اصول نہایت واضح ہے۔ ڈاکٹر تشخیص کرتا ہے، ڈاکٹر علاج تجویز کرتا ہے، جبکہ فارماسسٹ دوا فراہم کرتا ہے۔ یہی ذمہ داریوں کی تقسیم دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور مہذب نظامِ صحت کی بنیاد ہے کیونکہ اس کا مقصد مریض کا تحفظ ہے۔
    نسخہ صرف ادویات کی ایک فہرست نہیں ہوتا۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے بازار میں جا کر شیلف سے منتخب کر لیا جائے۔ ایک نسخہ برسوں کی طبی تعلیم، عملی تربیت اور کلینیکل تجربے کا حاصل ہوتا ہے۔ کسی بھی دوا کو تجویز کرنے سے پہلے ڈاکٹر مریض کی مکمل طبی تاریخ لیتا ہے، جسمانی معائنہ کرتا ہے، لیبارٹری ٹیسٹ اور امیجنگ رپورٹس کا جائزہ لیتا ہے، مختلف ممکنہ بیماریوں کو خارج کرتا ہے، الرجی، حمل، گردوں اور جگر کی کارکردگی، ادویات کے ممکنہ باہمی اثرات، سابقہ علاج، مریض کی مالی استطاعت اور دوا کی دستیابی جیسے متعدد عوامل کو مدنظر رکھتا ہے۔ ہر نسخہ پیشہ ورانہ، اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔
    اگر علاج ناکام ہو جائے یا مریض کو نقصان پہنچے تو جواب دہی ڈاکٹر کو کرنا پڑتی ہے، نہ کہ فارماسسٹ، فارمیسی کے مالک یا دوا ساز کمپنی کو۔
    اختیار اور ذمہ داری کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
    اسی لیے دوا تجویز کرنا محض فارماکولوجی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک مکمل کلینیکل فیصلہ ہوتا ہے۔
    افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ چونکہ فارماسسٹ ادویات کا مطالعہ کرتے ہیں، اس لیے انہیں مریض کے حتمی نسخے میں زیادہ کردار حاصل ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ فارماکولوجی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دوا کیسے کام کرتی ہے، جبکہ یہ فیصلہ کہ دوا کب، کس مریض کو، کس مقدار میں اور کن حالات میں دینی ہے، ایک طبی اور کلینیکل فیصلہ ہے۔
    جس طرح ایک ریڈیولوجسٹ امیجنگ کا ماہر ہوتا ہے اور ایک لیبارٹری سائنسدان تشخیصی ٹیسٹوں کا، اسی طرح فارماسسٹ ادویات کا ماہر ہوتا ہے۔ لیکن تمام طبی معلومات کو یکجا کر کے حتمی علاج کا فیصلہ کرنا ڈاکٹر کی ذمہ داری اور اختیار ہے۔
    ہر پیشے کی مہارت اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، لیکن پیشہ ورانہ حدود کا احترام اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
    ستم ظریفی یہ ہے کہ نسخہ نویسی میں زیادہ کردار کا مطالبہ کرنے سے پہلے فارمیسی کے شعبے کو اپنے اندر موجود ریگولیٹری مسائل کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
    پاکستان میں ہزاروں ریٹیل فارمیسیاں صبح سے رات گئے تک اور بہت سی چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان تمام اوقات میں کتنی فارمیسیوں پر رجسٹرڈ فارماسسٹ واقعی موجود ہوتے ہیں؟ کتنے مریضوں نے کبھی اس فارماسسٹ سے ملاقات کی ہے جو قانوناً اس فارمیسی کا ذمہ دار ہے؟ رات کی شفٹ میں ادویات کون فراہم کرتا ہے؟ مریضوں کی رہنمائی کون کرتا ہے؟ ادویات کی تقسیم میں ہونے والی غلطیوں کی ذمہ داری کون لیتا ہے؟
    یہ بے مقصد سوالات نہیں بلکہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب ریگولیٹری اداروں کو دینے چاہییں۔
    اسی طرح لائسنس کرائے پر دینے کے الزامات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ صحت کے شعبے میں یہ بات اکثر زیرِ بحث رہتی ہے کہ بعض فارمیسیوں میں صرف کاغذوں میں ایک فارماسسٹ موجود ہوتا ہے، جبکہ روزمرہ کا کام غیر تربیت یافتہ یا غیر رجسٹرڈ افراد انجام دیتے ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو پھر مریضوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا قانون محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔
    اس نظام کا سب سے زیادہ نقصان خود ایماندار اور پیشہ ور فارماسسٹوں کو بھی پہنچتا ہے، کیونکہ جو لوگ حقیقی معنوں میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی ایسے ماحول میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں جہاں پیشہ ورانہ رجسٹریشن کو عوامی تحفظ کے بجائے صرف قانونی تقاضا پورا کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
    جب کسی مریض کو تجویز کردہ دوا کے بجائے متبادل دوا دی جائے تو مریض کو چند بنیادی سوالات ضرور پوچھنے چاہییں۔ یہ تبدیلی کیوں کی جا رہی ہے؟ کیا متبادل دوا علاج کے لحاظ سے مکمل طور پر مساوی ہے؟ کیا تجویز کرنے والے ڈاکٹر سے ضروری مشاورت کی گئی ہے؟ یا یہ تبدیلی محض تجارتی بنیادوں پر کی جا رہی ہے؟
    مریض مکمل شفافیت کا حق رکھتا ہے۔ صحت سے متعلق فیصلے کبھی بھی مالی مفادات کے زیرِ اثر نہیں ہونے چاہییں۔
    پاکستان میں ایک ہی دوا کے مختلف برانڈز کی قیمتوں میں نمایاں فرق بھی عوامی تشویش کا باعث ہے۔ اگرچہ مختلف کمپنیوں کے معیار میں فرق ہو سکتا ہے، لیکن تجارتی مفادات کو طبی فیصلوں پر غالب نہیں آنا چاہیے۔ شفافیت ہی علاج کو زیادہ مؤثر اور مریض کے لیے زیادہ قابلِ برداشت بنا سکتی ہے۔
    یہ بحث کسی پیشہ ورانہ انا کی نہیں بلکہ مریض کے تحفظ کی ہے۔
    ڈاکٹر کسی اضافی اختیار یا خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ جس ذمہ داری کا بوجھ قانون نے ان کے کندھوں پر ڈالا ہے، اس کے مطابق انہیں اختیار بھی حاصل رہے۔ ڈاکٹر اپنی تعلیم کے دوران پیتھوفزیالوجی، تشخیص، سرجری، امراضِ نسواں، بچوں کے امراض، داخلی طب، نفسیات، ہنگامی طب اور متعدد دیگر شعبوں میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔ طبی عمل کو صرف دوا کے انتخاب تک محدود کر دینا معالج کے کردار کی بنیادی غلط فہمی ہے۔
    اسی طرح فارماسسٹ بھی اپنی مخصوص مہارتوں کی وجہ سے احترام کے مستحق ہیں۔ ادویات کی درست تقسیم، ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی، ادویات کے معیار کو برقرار رکھنا، مریضوں کو دواؤں کے درست استعمال سے آگاہ کرنا اور ادویات کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا ان کی اہم ذمہ داریاں ہیں۔ یہ ذمہ داریاں طب کے مقابلے میں نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرتی ہیں۔
    پاکستان کو ڈاکٹروں اور فارماسسٹوں کے درمیان کشمکش کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے مضبوط ریگولیٹری نظام کی ضرورت ہے جو قانون پر بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنائے۔ ہر فارمیسی میں ہر وقت رجسٹرڈ فارماسسٹ کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ لائسنس کے غلط استعمال کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ دوا کی تبدیلی کے ہر فیصلے میں مکمل شفافیت ہو، اور پیشہ ورانہ حدود کا احترام پیشوں کی خاطر نہیں بلکہ مریضوں کے تحفظ کے لیے کیا جائے۔
    سفید کوٹ اختلاف کی علامت نہیں بلکہ اعتماد، ذمہ داری اور خدمت کی علامت ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب تمام پیشے اس بنیادی اصول کو تسلیم کریں جس پر طب کا نظام قائم ہے:
    ڈاکٹر علاج کا فیصلہ کرتا ہے، جبکہ فارماسسٹ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دوا محفوظ اور درست طریقے سے مریض تک پہنچے۔ جب یہ حدود برقرار رہتی ہیں تو مریض محفوظ رہتا ہے، اور جب یہ حدود ٹوٹتی ہیں تو نقصان سب کا ہوتا ہے۔

    Related Posts

    اور :-یہ ملک پاکستان۔۔۔میری امنگوں کا ترجمان

    سوشل میڈیا کا زہر: طبی غلط معلومات کی خاموش وبا

    وردی، سفارش اور انصاف کی جنگ، ،ڈی پی او قصور نے سیاسی دباؤ کے تاثر کو کیسے دفن کیا؟

    مقبول خبریں

    قلات سرکاری ٹھیکیدارتین سیکیورٹی گارڈز سمیت اغوا

      عرس بابا فرید ،سیکرٹری اوقاف نے تیسرے روز بہشتی دروازہ کی قفل کشائی کی

    پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ایڈوانس ٹیکس میں کمی

    ایرانی صدر سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، باہمی دلچسپی، خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، ایف سولہ اور جے ایف 17 طیاروں کا فلائنگ سلیوٹ

    بلاگ

    نسخے کو متنازع بنا کر ڈاکٹر کے اختیار کو کمزور نہ کریں

    اور :-یہ ملک پاکستان۔۔۔میری امنگوں کا ترجمان

    سوشل میڈیا کا زہر: طبی غلط معلومات کی خاموش وبا

    وردی، سفارش اور انصاف کی جنگ، ،ڈی پی او قصور نے سیاسی دباؤ کے تاثر کو کیسے دفن کیا؟

    جنگ کسی نے لڑی، امن کسی نے کرایا، مگر سب سے زیادہ کمائی چین کرے گا؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.