بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز نیٹورک)
بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کے سربراہ رکن صوبائی اسمبلی سابق صوبائی وزیر میر اسد بلوچ نے بجٹ کو مسترد کر تے ہوئے کہاہے کہ یہ عوام دوست نہیں اور اس کو عوامی نمائندوں کی بجائے کسی اور نے بنایا ہے جس میں عوام کی آواز اور انکے بنیادی حقوق کے حصول کو نظر انداز کرتے ہوئے عوامی نمائندوں کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی ہے اور اس بجٹ میں بلوچستان میں کوئی ترقی نہیں ہوگی اور نہ ہی کو ئی بہتری آئے گی کیونکہ 1970سے بجٹ بنتے آرہے ہیں لیکن کوئی بدلائو نہیں آرہا ہے اس لئے وفاق کو بلوچستان میں انسرجنسی کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ فنڈز دینے چاہیئے اور اپنی پالیسوں کو ازسر نو جا ئزہ لیتے ہوئے زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر اقدامات اٹھانے ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجٹ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا میر اسد بلوچ نے کہا کہ پیش کیا گیا بجٹ جمہوری تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عوامی نمائندوں کی بجائے کسی اور نے بجٹ بنایا ہے جس میں عوام کے حق رائے دہی کو اہمیت دئے بغیر عوامی نمائندوں کو بھی پس پشت ڈال کر اپنی مرضی سے بجٹ بنایا ہے جس سے بلوچستان کی پسماندگی کیسے دور ہو سکتی ہے کیونکہ اسمبلی کو وی آئی پی منڈی بنا دیا ہے اور بجٹ میں ڈپٹی کمشنرز کو 40ارب اور عوام کے منتخب کر دہ عوامی نمائندوں کو 20ارب روپے دے رہے ہیں اس سے جمہوری سسٹم کی دھجیا ں اڑائی گئی ہیں اس سے جمہوری سسٹم اور طریقہ کار عوامی تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا جو آئین کے ارٹیکل 160کی خلاف ورزی ہے کیونکہ این ایف سی ایوارڈ میں وفاق حاصل کر دہ ریونیوسے محاصل صوبوںکو دے گا لیکن یہاںصوبے 60ارب روپے وفاق کو دے رہے ہیں یہ نقطہ نظر غلط بنایا گیا ہے اور ایسے غلط اقدامات اور پالیسوں کی وجہ سے قدرتی عمل کی خلاف ورزی کی جارہی ہے صوبے میں انسرجنسی میں زیادہ فنڈز دینے چاہیے تاکہ تعلیم،صحت، زراعت اور دیگر شعبوں کی بہتری بے روزگاری کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے لیکن ایسا اقدام اٹھانے کی بجائے غلط روش اپنائی جا رہی ہے حالانکہ بجٹ سے قبل محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کا طریقہ کار ہوتا تھا کہ وہ علاقوں میں سیمینار کروا کر عوامی رائے کی روشنی میں انکی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکیمات بنائی جاتی وہ اسکیمیں نمائندوں کی بجائے عوامی فلاح و بہبود و علاقوں کی تعمیر و ترقی کیلئے ہوتی تھیں یہ عوامی نمائندوں کو اسکیمیں اور فنڈز نہ دیں لیکن علاقے کے لوگوں کو اسکیمیں دیں جنہوں نے اپنے مسائل کے حل اور بنیادی ضروریات کے حصول کیلئے اپنے نمائندوں کو اپنے حق رائے دہی سے کامیاب کرا کر بھیجا ہے اس طرح کے اقدامات سے علاقوں کی پسماندگی اور محرومی کیسے دور ہوگی اور انارکی بڑھے گی جس سے جمہوریت کمزور ہوگی اور حالات خراب ہوں گے بلوچستان کے حالات بھی ایسی غلط پالیسیوں اور غلط اقدامات کا پیش خیمہ ہیں اس بجٹ سے صوبے میں کوئی ترقی اور تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ پسماندگی ،احساس محرومی دور ہوگی اس لئے وفاق اپنی پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لے کر مثبت پالیسی ترتیب دے کر عوام کی فلاح و بہبود کویقینی بنانے کیلئے اقداما ت اٹھائے گی اس لئے یہ بجٹ عوام دوست نہیں ہے نہ ہی اس سے عوام اور صوبے کی حالات میں کوئی بدلائو آنا ہے ۔

