لندن: انگلینڈ کے مشہورِ زمانہ شیئر ووڈ فاریسٹ (Sherwood Forest) کی شان اور یورپ کے قدیم ترین و بڑے درختوں میں شمار ہونے والا ‘میجر اوک’ (Major Oak) بالآخر دم توڑ گیا ہے۔ ایک ہزار سال سے زائد قدیم یہ درخت اس سال پتوں سے محروم رہا، جس کی وجہ حالیہ برسوں میں شدید گرمی اور خشک موسم رہا ہے۔


آر ایس پی بی (RSPB) کی جانب سے درخت کے ختم ہونے کا اعلان کیے جانے کے بعد، ایک جذباتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں روبن ہڈ کا روپ دھارے فنکار رابرٹ بریکلے نے شرکت کی۔ رابرٹ بریکلے کا کہنا تھا کہ "یہ درخت محض ایک لکڑی کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ کہانیوں کا امین تھا۔ یہ دنیا کا سب سے مشہور درخت ہے اور اس کا لیجنڈ ہمیشہ زندہ رہے گا۔”
اس درخت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اسپین، امریکا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا سمیت دنیا بھر سے سیاح وہاں پہنچ رہے ہیں۔ آٹھ سالہ کارٹر جیکسن، جو شیفیلڈ سے اپنے والدین کے ہمراہ آئے، نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ایک دیو ہیکل اور انتہائی خوبصورت درخت تھا، اس کا ختم ہونا بہت دکھ کی بات ہے۔”
‘میجر اوک’ کا خاتمہ صرف ایک درخت کی موت نہیں، بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کی ایک ایسی علامت ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک انتباہ ہے۔
1000 سال پرانا دیو ہیکل ‘میجر اوک’ درخت ہمیشہ کے لیے خاموش؛ شیئر ووڈ فاریسٹ کا قدیم ترین ورثہ ختم!

