عالمی منڈی: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدے کے اعلان کے باوجود عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
منگل کے روز سرمایہ کاروں کی جانب سے معاہدے کی شرائط کے فقدان اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی بحالی میں ممکنہ تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے باعث قیمتیں اوپر کی جانب گامزن ہیں۔
تیل کے نرخوں میں تازہ ترین تبدیلی کاروباری سیشن کے دوران تیل کی قیمتوں میں مندرجہ ذیل اضافہ دیکھا گیا:
برینٹ خام تیل: اس کے فیوچرز 26 سینٹ (0.3 فیصد) اضافے کے بعد 83.42 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے ہیں۔
امریکی خام تیل (WTI): ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 46 سینٹ (0.3 فیصد) اضافے کے ساتھ 81.12 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی تھی، جس کے بعد یہ 4 مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بند ہوئی تھیں۔ مارکیٹ میں اس شدید کمی کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان تھا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو چکے ہیں۔ تاہم، تفصیلات کے واضح نہ ہونے کے باعث منگل کو مارکیٹ میں دوبارہ غیر یقینی کی کیفیت دیکھی گئی۔
لڑکھڑاتے امن معاہدے پر سرمایہ کاروں کو تشویش؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں دوبارہ تیزی

