واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ ترین پولنگ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے سب سے وفادار سمجھے جانے والے ’وائٹ بلیو کالر‘ (سفید فام مزدور طبقے) کا اعتماد تیزی سے ڈگمگا رہا ہے، جس سے صدر کی مقبولیت میں نمایاں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔
معیشت کا بحران اور حمایت میں کمی
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2018 کے وسط مدتی انتخابات کے دوران جس طبقے میں ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کے لیے 30 فیصد سے زائد حمایت موجود تھی، اب وہیں 14 سے 30 فیصد تک عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار شین گولڈمیکر کے مطابق، ٹرمپ کے حامیوں کی بڑی تعداد اب انتظامیہ کی جانب سے معیشت کو سنبھالنے کے طریقوں پر "شدید شکوک و شبہات” کا شکار ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی چیخیں
رپورٹ میں اوہائیو سے تعلق رکھنے والی اینیٹ ڈومبرووسکی کا حوالہ دیا گیا ہے، جو ماضی میں تین بار ٹرمپ کو ووٹ دے چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا: "میں ہر ہفتے جب سودا سلف لینے جاتی ہوں تو چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھ کر شدید غصے میں ہوتی ہوں۔ ٹرمپ نے قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن صورتحال برعکس ہے۔”
پارٹی کے اندر بھی تنہائی
صرف عام ووٹرز ہی نہیں، بلکہ اپنی ہی پارٹی کے اندر بھی صدر کی گرفت کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ سی این این کے چیف ڈیٹا اینالسٹ ہیری اینٹن کے مطابق، مہنگائی کے معاملے پر ریپبلکنز کی جانب سے ٹرمپ کی حمایت میں "مکمل گراوٹ” آئی ہے، اور اب کئی پولز یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ٹرمپ اپنی ہی جماعت میں کمزور پڑ چکے ہیں۔
انتخابی منظرنامہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیل شدہ رجحانات ڈیموکریٹس کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہیری اینٹن کے مطابق، موجودہ سروے بتاتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ ریپبلکنز کے مقابلے میں زیادہ رہنے کا امکان ہے، جس سے آنے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔
ایپسٹین فائلز، ایران جنگ اور اس کے معاشی اثرات جیسے دیگر معاملات پر ہونے والی تنقید نے صدر ٹرمپ کی مقبولیت کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی مبصرین اسے ٹرمپ کی سیاسی زندگی کا ایک نازک ترین موڑ قرار دے رہے ہیں۔

