نئی دہلی: مہاراشٹر کے شہر پونے اور اس کے پڑوسی صنعتی علاقے پمپرى چنچواڑ میں زہریلی اور مبینہ طور پر ملاوٹ شدہ شراب پینے سے کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ متاثرین میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ افسوسناک واقعے کے بعد پولیس اور محکمہ آبکاری نے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔حکام کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پمپرى چنچواڑ کے فُگوے واڑی اور پونے کے ہڈپسر علاقے کے پاندھارے مالا میں اموات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ افراد نے میتھانول ملی غیر قانونی شراب نوش کی، جو علاقے میں سرگرم ایک غیر قانونی نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کی گئی تھی۔واقعے کے بعد شراب کے نمونے فرانزک لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں تاکہ ان کی کیمیائی ساخت کا تفصیلی تجزیہ کیا جا سکے اور زہریلے اجزاء کی درست نشاندہی ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
شہر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ غیر قانونی شراب اسمگلر یوگیش وانکھیڑے سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

