قاضی احمد رپورٹ: سائیں بخش لاکھو
قاضی احمد کے گاؤں لونگ کھوسو کے رہائشی آئس کے نشے کے عادی انٹر کے طالبعلم نوجوان محمد ہاشم کھوسو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں اس نے کہا ہے کہ قاضی احمد میں سینکڑوں زندگیاں نگلنے والی منشیات، خاص طور پر آئس، پر قابو نہیں پایا جا سکا۔شہر اور گرد و نواح کے علاقوں میں سرعام منشیات کا کاروبار جاری ہے جبکہ پولیس اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ پولیس نے سندھ حکومت کی جانب سے منشیات کے خلاف جاری مہم کو قاضی احمد میں ناکام بنا دیا ہے۔نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے جبکہ شہر کی مختلف کالونیوں میں منشیات کھلے عام فروخت ہو رہی ہے۔ وائرل ویڈیو میں نوجوان بتا رہا ہے کہ “اگر آئس کا نشہ نہ ملے تو دماغ کریش ہو جاتا ہے، میں اپنے والدین کی بے عزتی کرتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ کہیں سے بھی پیسے لا کر دو۔ آئس اور ہیروئن کے نشے نے ہماری زندگی تباہ کر دی ہے، چاہے مجھے گرفتار ہی کیوں نہ کر لیا جائے۔”
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قاضی احمد اور گرد و نواح کے علاقوں میں منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔
قاضی احمدشہر اور گرد و نواح کے علاقوں میں سرعام منشیات کا کاروبار جاری

