تحریر: رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

صوبہ بلوچستانمیں دہشتگردی کی واقعات میں اضافہ ہورہا ہے بدامنی کے واقعات سے عوام میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ مختلف اضلاع میں سیکیورٹی کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، جہاں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور جرائم میں اضافہ عوام میں شدید خوف ہراس پایا جارہا ہے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ ڈکیتی لوٹ مار قتل و غارت کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، شہری میں بے یقینی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔
ضلع مستونگ کی حدود سے پروفیسرز کی اغوا سے تعلیمی حلقوں اور اساتذہ کو شدید پریشان کا سامنا ہے نوشکی تفتان روٹ پر بار بار ناکہ بندی کی اطلاعات ہیں، جس سے مسافروں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے خاران میں ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں اضافے سے مقامی لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں رات بھر مقامی جاگتے رہتے ہیں گزشتہ چار روز سے جاری احتجاج نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
پشین میں گزشتہ روز خودکش بمبار کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا، جس سے ایک ممکنہ بڑا سانحہ ٹل گیا۔ ہرنائی-ذرائع کے مطابق زیارت شاہراہ پر دہشت گردوں کی جانب سے کوئلے سے بھرے پانچ ٹرکوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا کاروباری افراد میں بے یقینی صورت حال پایا جارہا ہے زشتہ روز جھل مگسی میں بھی دہشت گرد حملہ آور ہوئے تھانہ کوٹڑہ دہشتگردوں اور اہلکاروں کے درمیاں تقریبا چار گھنٹے فائرنگ کا تبادلے کے بعد دہشتگردوں کو پسپا ہونا پڑا جھل مگسی کے صدر مقام گنداواہ سٹی کے بالکل ساتھ پولیس چوکی کو نامعلوم مسلح افراد نے نذر آتش کر دیا اور ایک پولیس اہلکار کو اغوا کر کے فرار ہو گئے۔ جبکہ آج نصیر آباد ، ڈیرہ مراد جمالی میں پولیس وین پر دستی بم حملہ بھی کیا گیا اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
بلوچستان کی مجموعی طور امن و امان کی صورت حال خراب ہوتی جارہی ہے صوبہ کی عوام اپنے کو غیر محفوظ سمجھتی ہے بڑھتی ہوئی بدامنی اور دہشت گردی نے امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، غریب عام عوام سفر کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں اور تاجر برادری کی جانب سے تجارتی سرگرمیوں میں عدم دلچسی پیدا ہورہی ہے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری وموثر اقدامات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ امن و امان بحال کرنے حکومت کی ذمہ داری ہے شہریوں کی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئیحکومت بلوچستان کو موثر کاروائی کرنا چاہئے۔ عوام میں خوف ہراس پیدا ہوچکا ہے تاکہ اس خوف کا خاتمہ ہو۔
