لندن: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان جاری تناؤ نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
جمعہ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.3 فیصد یا 2.38 ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 104.96 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.73 ڈالر اضافے کے ساتھ 98.08 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز دونوں بینچ مارکس تقریباً 2 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ گزشتہ دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہوئے تھے۔
عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ماضی میں عالمی توانائی کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی اہم گزرگاہ سے ہوتا تھا۔ موجودہ بحرانی صورتحال کے باعث یومیہ 14 ملین بیرل تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس نے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی ‘ایڈونک’ (ADNOC) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ جنگ فوری طور پر ختم بھی ہو جائے، تب بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مکمل ترسیل کی بحالی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سپلائی لائنز کو اپنی معمول کی فعالیت پر واپس آنے کے لیے 2027 کی پہلی یا دوسری سہ ماہی تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں کی نگاہیں ایران کے یورینیم ذخائر سے متعلق معاملات اور خطے میں جاری کشیدگی پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات برقرار رہیں گے، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہے گا اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔
تیل کی عالمی قیمتوں میں پھر تیزی، جنگ فوری بھی ختم ہوجائے تو معمول پر آنے میں 10 ماہ لگیں گے، یواے ای

