تحریر : سہیل احمد رانا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے شہر بھر میں ایک ہفتے کے اندر تمام ڈبل سورس کنکشن ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں تاکہ جانی نقصان کے ذمہ داران لیسکو افسران کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کے بارے ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔ لیسکو حکام کے مطابق یہ کارروائی سرکاری رہائش گاہوں کے ساتھ ساتھ نجی آبادیوں میں بھی کی جائے گی، کیونکہ غیر قانونی یا غیر منظور شدہ ڈبل سورس کنکشن انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں لاہور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں ایک لائن مین ڈبل سورس کنکشن کے باعث حادثے کا شکار ہوا، جس کے بعد ادارے نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے فیلڈ افسران کو فوری کارروائی کی ہدایات جاری کیں۔ لیسکو نے واضح کیا ہے کہ آئندہ ایسے کنکشنز کے باعث کسی بھی جانی نقصان کی صورت میں متعلقہ ایکسیئن اور ایس ڈی او کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں نوکری سے برخاستگی بھی شامل ہو سکتی ہے۔دوسری جانب اس فیصلے کے بعد اہم سوالات بھی سامنے آ گئے ہیں کہ برسوں سے شہر بھر میں ہزاروں ڈبل سورس کنکشن آخر کس کی سرپرستی میں لگائے جاتے رہے؟ ذرائع کے مطابق ان کنکشنز کے عوض صارفین سے کروڑوں روپے وصول کیے گئے جبکہ مبینہ طور پر بھاری رقوم بطور رشوت بھی ہضم کیے جانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف کنکشن ختم کرنا کافی نہیں، بلکہ ان افسران، لائن سپریٹنڈنٹس اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہئیں جن کی مبینہ ملی بھگت سے یہ خطرناک نظام برسوں جاری رہا۔ کیا سائلین سے وصول کی گئی رقوم واپس کی جائیں گی یا یہ معاملہ صرف احکامات تک محدود رہے گا۔لیسکو انتظامیہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی بااثر شخصیت یا سرکاری افسر اب ڈبل سورس کنکشن استعمال نہیں کر سکے گا، البتہ حساس مقامات جیسے ہسپتال، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کو خودمختار فیڈرز کے تحت محدود اجازت حاصل ہوگی۔
لیسکو کا بڑا آپریشن، کرپشن پر خاموشی نے سوال اٹھا دیے! ڈبل سورس کنکشن ختم، مگر لگوانے والے افسران محفوظ؟


