اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے جنوبی پنجاب میں ایک ایسے منظم گینگ کو گرفتار کر لیا ہے جو پاکستان کے اعلیٰ سرکاری افسران، ملٹری اور سول اداروں کا خفیہ ڈیٹا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کو فروخت کر رہا تھا۔
ترجمان سائبر کرائم ایجنسی کے مطابق گرفتار ہونے والے چار رکنی گروہ میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ عناصر نہ صرف عام شہریوں کا نجی ڈیٹا چرانے میں ملوث تھے بلکہ انتہائی حساس اور ملکی سلامتی سے جڑا خفیہ ڈیٹا بھی پیسوں کے عوض غیر ملکی ایجنسیوں تک پہنچا رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ان افراد کو ڈیٹا فراہم کرنے والا اندرونی نیٹ ورک کون سا ہے۔ ملزمان کے خلاف ‘پیکا ایکٹ’ (PECA) کے تحت سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے ہراسگی کے کیس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں حکام نے بتایا کہ یہ کیس لاہور آفس دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس کیس کی تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور اسے ایک سے دو روز میں حل کر لیا جائے گا۔
صحافیوں کے سوال پر حکام کا کہنا تھا کہ ہم صحافیوں کی آزادی اور ان کے کام کی قدر کرتے ہیں، تاہم ایسے افراد جو صحافت کی آڑ میں ملک کے خلاف وی لاگز (Vlogs) بناتے ہیں اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں، ان کے خلاف بلا تفریق ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو بھی اداروں یا شہریوں کا ذاتی ڈیٹا لیک کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سائبر کرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔
ڈیٹا چوری کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب: جنوبی پنجاب سے حساس ڈیٹا فروخت کرنے والا گینگ گرفتار، پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

