بلوچستان( رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب)خضدار کی رہائشی ایک بلوچ ماں نے کوئٹہ پریس کلب میں انتہائی رقت آمیز پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے قتل، گھر سے بے دخلی اور مسلسل دھمکیوں کے خلاف انصاف اور تحفظ کی اپیل کردی۔ پریس کانفرنس کے دوران خاتون کئی بار آبدیدہ ہوگئیں اور اپنے دکھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماں سے اس کا سب سے قیمتی سرمایہ، اس کا جوان بیٹا چھین لیا گیا، لیکن ظلم کی داستان یہیں ختم نہیں ہوئی۔متاثرہ خاتون نے بتایا کہ رمضان المبارک میں خضدار سبزی منڈی کے مقام پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ان کے جگر گوشے کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے کی لاش کو دیکھ کر ان کی دنیا اجڑ گئی، مگر اس المناک سانحے کے بعد بھی ان کے خاندان کو سکون نصیب نہ ہوسکا۔خاتون نے الزام عائد کیا کہ سابق وزیر اعلی بلوچستان سردار تنا اللہ زہری کے بااثر افراد نے ان کے گھر پر دھاوا بول کر دروازے، الماریاں، بیڈ اور دیگر گھریلو سامان کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا جبکہ قیمتی اشیا بھی اٹھا کر لے گئے۔ اور سردار صاحب کو شاید اس کا علم بھی نہ ہو ۔ یہ لوگ سردار کے نام پر قتل لوٹ مار دھمکیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ان کے گھر کی چار دیواری، جو برسوں کی محنت اور یادوں کا مرکز تھی، چند لمحوں میں تباہ کردی گئی۔روتے ہوئے خاتون نے کہا کہ ظلم کی انتہا اس وقت ہوئی جب انہیں اور گھر کی دیگر خواتین کو زبردستی گھر سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ اپنے ہی علاقے میں بے آسرا اور بے گھر ہوچکی ہیں، کبھی کسی پڑوسی کے گھر تو کبھی کسی رشتہ دار کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ان کے بقول، "ہماری چھت چھین لی گئی، ہمارا سکون چھین لیا گیا، اور اب ہماری جانیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔
بیٹے کومارنے والے اب ہماراآشیانہ بھی چھینے کے درپے، پریس کانفرنس کے دوران خاتون کئی بار آبدیدہ ہوگئیں

