نیویارک: عالمی منڈی میں سونے کے نرخوں میں مندی کا رجحان برقرار ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی غیر معمولی مضبوطی اور افراطِ زر کے خدشات ہیں۔ مسلسل دوسرے ہفتے سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
جمعہ کے روز عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 4,522.89 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔ اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 4,524.40 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوتے رہے۔ رواں ہفتے کے دوران سونے کی قدر میں مجموعی طور پر تقریباً 0.3 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی ڈالر اس وقت گزشتہ چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر موجود ہے۔ ڈالر کے مہنگے ہونے سے دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا خریدنا مشکل ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں طلب میں کمی آئی ہے۔ ماہرِ معاشیات ایڈورڈ میئر کا کہنا ہے کہ امریکہ میں افراطِ زر کے دباؤ کے پیشِ نظر فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات نے سونے پر گہرا دباؤ ڈالا ہے۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق رواں سال کے اختتام تک شرح سود میں اضافے کے امکانات 60 فیصد تک بڑھ چکے ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی معاشی غیریقینی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت اشارے ملنے کے باوجود، ایران کے یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات پر جاری تناؤ عالمی سپلائی چین کو متاثر کر رہا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں عالمی سطح پر مہنگائی کو ہوا دے رہی ہیں، جس کے اثرات براہِ راست سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری پر بھی پڑ رہے ہیں۔
سونے کے ساتھ ساتھ دیگر قیمتی دھاتیں بھی مندی کی لپیٹ میں ہیں۔ چاندی کی قیمت 0.7 فیصد کمی کے بعد 76.18 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی، جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی نمایاں تنزلی دیکھی گئی ہے
ڈالر کی اڑان اور بلند شرح سود کا خوف: عالمی مارکیٹ میں سونے چاندی کی قیمتیں مسلسل دوسرے ہفتے گراوٹ کا شکار

