نواب شاہ(رپورٹ نفیس آرائیں)
پنجاب کے شہر موسیٰ خیل کے رہائشی رفیق بھٹی، جس کے خلاف پنجاب میں تقریباً 33 مقدمات درج ہونے کا انکشاف ہوا ہے، اصغر کالونی سڪرنڊ میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ عباس ملاح کی ضمانت پر امجد پاھی کے مکان میں اپنی اہلیہ اور تین بچوں سمیت رہ رہا تھا اور مزدا شہزور چلا کر روزگار کرتا تھا۔چند روز بعد پنجاب سی ٹی ڈی موبائل ٹریسنگ کے ذریعے سڪرنڊ پہنچی، تاہم چھاپے سے چند منٹ قبل ہی رفیق بھٹی اپنی اہلیہ سمیت فرار ہوگیا جبکہ تین بچے گھر میں چھوڑ گیا۔ تلاشی کے دوران پولیس نے 2 پستول، سونا، نقدی اور دیگر سامان برآمد کرکے مزدا شہزور گاڑی سمیت تحویل میں لے لیا۔بعد ازاں بچوں کی حوالگی کا معاملہ پیچیدہ ہوگیا، تاہم گزشتہ رات پاھی برادری نے میڈیا کی موجودگی میں تینوں بچوں کو سڪرنڊ پولیس کے حوالے کردیا۔ پاھی برادری کا کہنا ہے کہ رفیق بھٹی کو عباس ملاح لے کر آیا تھا، اس لیے اصل ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ مکان یا دکان کرائے پر دیتے وقت متعلقہ تھانے میں اندراج ضرور کروائیں۔

