Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      سائنسدانوں نے بلیک ہولز سے متعلق بڑا اور قدیم سائنسی اسرار حل کر لیا

      واٹس ایپ کا زبردست تحفہ: اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ’وائس ٹو ٹیکسٹ‘ نیا فیچر

      آرٹی فیشل انٹیلی جنس بے قابو، گوگل جیمنائی نے بھی تین کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کر لیے

      مصنوعی ذہانت کا استعمال: امریکی فوج چین کے خلاف بڑی مشکل میں پھنستے پھنستے بچ گئی

      گیمنگ کی دنیا میں طوفان: ’جی ٹی اے 6‘ کے خصوصی ڈوئل سینس کنٹرولر کی رونمائی، قیمت اور لانچ کی تاریخ سامنے آ گئی

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    شعبہ تعلیم کی پرائیویٹائزیشن، لیکن کیوں

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

     

    تحریر:حاجی فضل محمود انجم

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    تعلیم اور صحت یہ دونوں شعبے بنیادی انسانی حقوق کے ذیل میں آتے ہیں۔دستور پاکستان کے تحت یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنی عوام کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرے اور علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرے۔اسی لئے آئین پاکستان حکومت کو ٹیکس لینے کا اختیار دیتا ہے۔اب صورت حال یہ ہے کہ حکمران ان دونوں شعبوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرکے اپنی اس ذمہ داری سے جان چھڑانا چاہتے ہیں جوکہ ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی آئین پاکستان انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ویسے بھی یہ ایک عالمگیر سچائی ہے کہ "‏تعلیم اور صحت کوئی کاروبار نہیں” ہے جس سے حکومت کو نفع ملے بلکہ یہ تو ایک "فریضہ” ہے جسے ہر حال میں پورا کرنا ہی کرنا ہے۔ ”
    سرکاری اسکولوں کے خوبصورت اور بہترین ہوادار کمرے، شاندار اور آراستہ و پیراستہ لیبارٹریز اور وسیع و عریض کھیلوں کے گراونڈز اور ہمہ قسم کی سہولیات سے مزین یہ اسکولز کوئی ایک دن میں نہیں بنے بلکہ انہیں بنانے میں برسوں کی محنت اور کثیر سرمایہ لگا ہے ۔ چاہئے تو یہ تھا کہ انہیں کسی پلان کے تحت سکولز پیف کو دیا جاتا لیکن ہم نے بلاء سوچے سمجھے پورا تعلیمی شعبہ ہی پرائیویٹائز کرکے بے رحم اور جاہل تعلیمی تاجروں اور ٹھیکداروں کے حوالے کر دیا ہے۔
    آج سوشل میڈیا پر ایک اسکول کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں پیف کے ایک سکول مالک نے اس خوف سے کلاس کے کمرے میں پنکھے بند کروا دیئے تاکہ بجلی کا بل زیادہ نہ اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو جھلستی ہوئی گرمی میں کمرے کے اندر بٹھاۓ رکھا۔ یہ صورت حال ہے ان اسکولوں کی جو کبھی سرکاری اسکول ہوا کرتے تھے ۔اب جب سے یہ اسکول ان کاروری لوگوں کے ہتھے چڑھے ہیں، برباد ہو چکے ہیں۔یہ تو صرف ایک اسکول کی صورت حال ہے جو کسی طرح پوائنٹ آؤٹ ہوکر سوشل میڈیا پہ آ گئی اور محکمے نے اس پہ نوٹس لے لیا۔گویا ابھی تو ان ٹھیکداروں نے بچوں کے پنکھے بند کئے ہیں۔یقین کریں اگر کل کو باقی بچ جانیوالے سرکاری سکول نہ رہے تو یہ لوگ معصوم بچوں کی سانسیں بھی بند کر دیں گے کیونکہ یہ تو کاروباری لوگ ہیں، انہیں اپنے مفاد سے غرض ہے کیونکہ یہ کونسا انکے بچے ہیں۔؟ انکے اپنے بچے تو بڑے بڑے اور جدید اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔حکومت پنجاب کو چاہئے کہ وہ اسے اپنی اناء کا مسلہ نہ بناۓ اور کسی تھرڈ پارٹی پر اندھا اعتماد کرنے کی بجائے تعلیم و صحت کے شعبوں کو اپنے پاس رکھے۔اس ضمن میں مندرجہ ذیل اقدامات کرکے صورت حال کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔
    "غیر مناسب اور غیر ضروری جگہوں پہ موجود ایسے اسکولوں کو بند کر دیا جاۓ جن کی تعداد بہت کم ہے اور دوسرے کامیاب اسکولوں میں ضم کر دیا جاۓ۔”
    "بعض ایسے اسکولز جہاں پہ اساتذہ موجود نہیں ہیں یا کم ہیں لیکن ان اسکولوں کی تعداد تسلی بخش ہے اور وہ اہم جگہوں پر قائم کئے گئے ہیں انہیں درکار سہولیات مہیا کی جائیں”
    "غیر ضروری مانیٹرنگ اسٹاف جیسے کہ مراکز میں کھمبیوں کی طرح اگے ہوۓ اے ای اوز کو اسکولوں میں تعینات کرکے ان سے بچوں کو پڑھانے کا کام لیا جاۓ اور مانیٹربگ کیلئے صرف تحصیل سطح تک کے افسران کا تقرر کیا جاۓ”
    "دیہاتوں کی سطح پر قائم پرائمری اور ایلیمنٹری اسکولوں کے درمیان مانیٹرنگ اور رابطے کیلئے ماضی کی طرح سنٹر اسکولز کا قیام عمل میں لایا جاۓ جنکا ہیڈ ٹیچر اپنے زیر اثر اسکولوں کی ہر طرح سے مانیٹرنگ کرے اور انکے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کرے۔”
    "غیر ضروری ٹریننگز اور ورکشاپس کو بند کیا جاۓ اور صرف ان ٹریننگز اور ورکشاپس کو جاری رکھا جاۓ جو اشد ضروری ہوں کیونکہ آۓ دن کی ٹریننگز اور ورکشاپس پر عوام کا کثیر سرمایہ اور وقت خرچ ہوتا ہے”
    "دیہاتوں میں موجود ان اسکولوں کا سب سے بڑا مسلہ صفائی اور ڈاک کی ترسیل ہوتا ہے۔اسکے لئے ضروری ہے کہ ہر پرائمری اسکول میں کم از کم ایک ملازم کلاس فور کا لازمی تقرر کیا جاۓ اور ڈاک کی ترسیل کا نظام بھی سنٹر اسکولوں کے ہیڈز کو دیدیا جاۓ”
    "سرکاری اسکولوں کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کو بھی ایک طے شدہ نظام کے تحت لایا جاۓ کیونکہ یہ ادارے قبل از وقت امتحان لیکر بچوں کو اگلی کلاسز میں پروموٹ کر دیتے ہیں جس سے سرکاری اسکولوں میں داخلہ کم ہو جاتا ہے اور تعداد کا مسلہ بنتا ہے۔”
    "شعبہ تعلیم میں موجود تمام تر افسران، اساتذہ اور دیگر عملے کی رائٹ سائزنگ کی جاۓ اور تمام تر فالتو اسامیاں جو سیاسی ضرورتوں کے تحت عمل میں لائی گئی تھیں انہیں فی الفور ختم کر دیا جاۓ اور اس کی زد میں آنے والے عملے کو شفٹ کر دیا جاۓ۔اس طرح سرمایہ بھی بچے گا اور مسائل بھی کم ہونگے۔”
    "اساتذہ ہی اول و آخر معماران قوم ہیں اور انہی کی کوششوں سے نوجوان نسل نے مفید شہری بننا ہے اور پھر ملک کی باگ ڈور کو سنبھالنا ہے۔آپ انہیں ان کی جائز اور آئینی طور پر تسلیم شدہ مراعات پر کٹ لگا کر ان سے کیا توقع کر سکتے ہیں۔انہیں پریشان مت کریں اور غصب شدہ مراعات بحال کریں۔پھر یہی لوگ آپکو نتائج بھی دیں گے۔ان شاءاللہ۔”
    اگر بیان کردہ اقدامات اٹھا لئے جاتے ہیں تو پھر دیکھتے کہ "سرکاری سکول معیاری سکول” کیسے نہیں بنتے۔!!!

    Related Posts

    اور… اب شکوہ و شکایت کیسی!؟

    ایک ننھا سا سیلوٹ اور ہزاروں سوال

    انقلابِ ایران کے بعد اسرائیل مضبوط کیوں ہوا؟ وہ تلخ سچ جو کوئی نہیں بتاتا

    مقبول خبریں

    یمن پر حملے کی صورت میں امریکہ کے لیے باب المندب بند کر دیا جائے گا: ایران کی سخت تنبیہ

    سینئر بھارتی صحافی پائل میہتا 46 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں؛

    بلقیس بانو کیس: مجرم رادھے شیام شاہ کو گجرات ہائی کورٹ سے 7 دن کی پیرول مل گئی

    ایسا انوکھا خاندان جس کی مسلسل 5 نسلوں کی تاریخِ پیدائش ایک ہی ہے؛ گنیز ورلڈ ریکارڈ میں نام درج

    ماموں کانجن: پولیس مقابلے میں 2 مبینہ ڈاکو ہلاک، 4 فرار؛ ملزمان 40 مقدمات میں مطلوب نکلے

    بلاگ

    اور… اب شکوہ و شکایت کیسی!؟

    ایک ننھا سا سیلوٹ اور ہزاروں سوال

    انقلابِ ایران کے بعد اسرائیل مضبوط کیوں ہوا؟ وہ تلخ سچ جو کوئی نہیں بتاتا

    کوھاٹ پولیس لائن دھماکا: شہید والد کی قبر پر کمسن بچے کا سلوٹ، ہر آنکھ اشبار

    1122: سہولت جو موجود ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے برابر ہے

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.