نوشہروفیروز ( رپورٹ ڈسٹرکٹ رپورٹر رجب علی سمون)
ڈی سی نوشہروفیروز ارسلان سلیم کے حکم پر اے سی عثمان عارف کی نگرانی میں دوکاندار اور میونسپل انتظامیہ کے مذاکرات ہوئے گئے اے سی کے سامنے بیٹھ کر سٹی چیرمین ڈاکٹر کاشف اور میونسپل آفیسر عبدالفتح تگر نے دوکانداروں سے 20 ہزار کیش جوکے 40 سال پہلے ایڈوانس دے کر بیٹھے ہیں انسے مزاکرات میں مانگے اور 3گنا کرایہ بڑھایا جبکہ 20ہزار کی کوئی لکھت بھی نہیں ہوگییعنی ایسا کہا جائے بھتہ لیا گیا ضلع کے ایک عزت دار آفیسر کے سامنے بہت دکھ کی بات ہے اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز رہی نہیں عوام کو منتخب نمائندوں اور ضلع انتظامیہ کے ہاتھوں ہراساں کر کے بند کمروں میں بیٹھ کر بڑی آسانی سے لوٹا جا رہا ہے لیکن کوئی ایکشن لینے کے لیے تیار نہیں ایکشن لیا جاتا ہے ایک ریڑی والے پر مزدور پر دوکانداروں پر یا اس عوام پر جو عزت سے اپنے ملک پاکستان میں رزق حلال کما رہے ہیں اگر ایسا ہی چلتا رہا تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے یہ عوام اب کس کے سامنے اپنی شکایتیں درج کرے کوئی ارادہ عوام کی سننے کو تیار ہی نہیں


