کوچی:کیرالا ہائی کورٹ نے پریاگ راج کمبھ میلے کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی نوجوان لڑکی مونا لیزا کی درخواست پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے مقامی پولیس کو اس کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ بادی النظر میں لڑکی کی زندگی کو لاحق خطرات پیشِ نظر اسے سیکیورٹی فراہم کرنا قانونی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
مہاکمبھ کی ‘جادوئی آنکھوں’ والی مونالیزا فرمان خان کی ہو گئیں: کیرالہ میں پولیس پروٹیکشن میں بین المذاہب شادی!
یہ نوجوان لڑکی گزشتہ سال اتر پردیش کے پریاگ راج کمبھ میلے کے دوران رودرکش کی مالائیں فروخت کرتے ہوئے ایک ویڈیو کے ذریعے انٹرنیٹ پر راتوں رات مشہور ہوئی تھی۔ بعد ازاں، اس نے کیرالا کے رہائشی محمد فرحان کے ساتھ شادی کر لی، جس پر اس کے اہل خانہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
لڑکی کے والد نے مدھیہ پردیش میں ایف آئی آر درج کروائی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کی بیٹی نابالغ ہے اور محمد فرحان نے اسے اغوا کیا ہے۔ اس شکایت کی بنیاد پر فرحان کے خلاف اغوا اور کم عمری کی شادی سمیت مختلف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ قبل ازیں، کیرالا ہائی کورٹ کی ایک بنچ نے لڑکی کو بالغ قرار دیتے ہوئے فرحان کو عبوری ضمانت دی تھی تاکہ وہ قانونی عمل مکمل کر سکے۔
کیرالا ہائی کورٹ نے کیس کی تازہ سماعت کے دوران لڑکی کی جانب سے جان کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنجیدہ معاملہ قرار دیا۔ عدالت نے ریاستی حکومت اور ایرناکولم سینٹرل پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (SHO) کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور کیس کی مزید سماعت کے لیے 10 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔
کمبھ میلے کی ‘رودرکش گرل’ کی زندگی کو خطرہ؛ کیرالا ہائی کورٹ کا پولیس کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم

